کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی شفیق احمد ولد شیخ بشیر احمد نے گِزری میں کرایہ کی دوکان لے کر ، کپڑے کا کام شروع کیا تھا، تین چار سال کی محنت کے بعد میں نے وہ دوکان خرید کر ، اس کی پاور بیٹے کے نام لکھوادی، اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے ایک پلاٹ بک کر کے اس کی پاور اپنی اہلیہ کے نام لکھ دی ، جو کہ اب انتقال کر چکی ہے۔
میرا اکلوتا بیٹا بڑا ہوا، تو میں نے اس کو اپنے ساتھ کام میں لگادیا، جس کے تین چار سال بعد ، میں نے اپنی ذاتی سرمایہ سے ، ایک فیکٹری بنام sss.emroidery کھول کر ، دو عدد ایمرائیڈری مشینیں اس میں لگا کر ، کاروبار شروع کیا، جس کی تمام تر ذمہ داری ، میں نے اپنے بیٹے کو سونپ دی، بیٹے کی محنت سے اور اللہ کے فضل سے کاروبار ترقی کرنے لگا، تو ہم نے اسے مزید بڑھانے کے لئے ، پہلے مذکور مکان ، اور پھر دوکان فروخت کر کے ، فیکٹری کے لئے مزید مشین خرید لیں، اسی اثناء میرے بیٹے نے ، اپنے ایک دوست سے شرکت کا معاملہ کر کے ، اس کی بارہ (۱۲) مشینیں بھی اپنے، مشینوں کے ساتھ ملالیں ، جس پر بیٹا ، میں (۳۰) فیصد منافع لیا کرتا تھا، لیکن اب میرے بیٹے کی وفات پا جانے کی وجہ سے ، دوست نے شراکت داری کا معاملہ ختم کر دیا ہے، جبکہ یہ سارا کام مشتر کہ طور پر چل رہا تھا، ہم باپ بیٹے نے آپس میں کوئی حصہ داری طے نہیں کی تھی۔
دوسری طرف میں نے دوکان دوبارہ کرائے پر خرید کر ، اس میں کام شروع کیا ، اور آہستہ آہستہ اس دوکان سمیت ، ایک دوسری دوکان بھی خرید لی، اب ہمارے پاس فیکٹری میں لگی بائیس (۲۲) عدد ایمر ائیڈری مشینیں، اور دو (۲) دوکانیں، ایک رہائشی گھر ، جس میں اب بھی ہم ایک ساتھ رہائش پذیر ہیں اور نقد رقم جو کہ کاروبار میں لگی ہوئی ہے ، موجود ہیں، نیز ہمارے ساتھ رہنے کی وجہ سے گھر کا تمام خرچ دوکان سے پورا ہو تا تھا، فیکٹری کے نفع میں سے کچھ بھی نہیں لیا جاتا تھا۔
اب جبکہ میرا بیٹا کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے وفات پاچکا ہے، جس کے ورثاء میں ، میں ( والد ) بیوہ، دو بیٹے، بیٹی اور دو بہنیں ہیں، بیٹے کے انتقال کر جانے کے بعد ، جائیداد کا مسئلہ اٹھا، جس پر میں نے اور تمام خاندان والوں نے متفقہ طور پر ایک ایگریمنٹ تیار کیا، جس میں تمام جائیداد کا آدھا حصہ بہو اور اس کے بچوں کے نام اور آدھا حصہ میرے نام لکھوایا گیا، جس پر دستخط بھی کر دیے گئے، لیکن میری بہو اب یہ دعوی کر رہی ہے کہ یہ ساری کی ساری جائیداد اس کے شوہر ( بیٹے ) کی ہے، اور میر ا (شفیق احمد ) کا بحیثیت والد ہونے کے صرف مذکور جائید اد یعنی بیٹے کی وراثت میں حصہ بنتا ہے۔
لہذا اب سوال یہ ہے کہ مذکور صور تحال کو مد نظر رکھتے ہوئے، مذکور جائیداد کا شرعاً کیا حکم ہے؟ بہو کا مذکور دعوی کس حد تک درست ہے ؟ اور ہمارے مابین کیے جانے والے ایگریمنٹ کی شرعاً کیا حیثیت ہو گی ؟
نوٹ: ایگریمنٹ کی کاپیاں منسلک ہیں۔
سائل کا بیان اگر درست اور حقیقت پر مبنی ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ انہوں نے اپنے ذاتی سرمایہ سے مذکور فیکٹری کھول کر اس کی ذمہ داری بیٹے کو سونپی تھی، اور آپس میں کوئی حصہ داری طے نہ کی تھی، اس صورت میں بیٹے کی حیثیت معین و مددگار کی تھی، اس لئے مذکور فیکٹری اور تمام جائیداد بدستور سائل ہی کی ملکیت تھی، اس لئے بیوہ کا مذکور دعوی غلط اور باطل ہے ، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ بیٹے کے انتقال کے بعد حال میں جو معاہدہ ہوا ہے، ہبہ مشاع ہونے کی وجہ سے درست نہیں، بلکہ فاسد ہے، تاہم سائل نے اگر مذکور معاہدہ کے پیپر پر، جائیداد کا ایک حصہ بہو اور اس کے بچوں کے نام لکھوانے کے بعد ، اگر انہیں اس حصہ پر باقاعدہ قبضہ بھی دے دیا ہو، تو بہو اور اس کے بچے اس حصہ اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کے مالک ہونگے، ورنہ نہیں۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله: وما حصلاه معا إلخ) (إلی قوله) ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له اھ (4/ 325)۔
و في تنقيح الفتاوى الحامدية: ( أقول ) هذا في غير الأب مع ابنه والزوج مع زوجته لما نقله المؤلف في غير هذا المحل عن دعوى البزازية ونصه ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له اھ (2/ 123)۔
و في الفتاوى التاتارخانية : وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة من رجلين أو من جماعة عندهما صحيحة و عند أبي حنيفة فاسدة و ليست بباطلة حتى يفيد الملك عند القبض و في الغيائية هو المختار ذكره الصدر الشهيد اھ (۱۴/ ۴۲۴)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0