کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں دبئی میں ہوتا ہوں اور وہاں کاروبار کرتا ہوں، تو مجھے کسی نے کہا کہ اگر آپ کو مال کی ضرورت ہو تو فلاں آدمی سے رابطہ کر کے منگوا لینا، وہ آدمی چین میں ہوتا ہے، تو مجھے جب زائد مال کی ضروت ہوئی ، تو میں نے اس سے رابطہ کیا کہ فلاں چیز کی مجھے ضرورت ہے، اس آدمی نے وہ چیز اسی مقدار میں جو مجھے ضرورت تھی خرید لی، اور یہ کہہ کر بھیج دیا کہ راستے کی ساری ذمہ داری بھی میری ہے اور اگر دیکھنے کے بعد آپ کو پسند نہ آئی تو یہ چیز میری ہوگی، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ طے کیا کہ اس پر 25 فیصد منافع میں آپ سے لوں گا، اور اس کی ادائیگی کے لیے وقت بھی طے کیا گیا، مثلا اگر وہ چیزیں اس نے ایک لاکھ کی خریدی ہے تو ایک لاکھ پچیس ہزار اس کی قیمت طے ہوگئی ، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح معاملہ کرنا شرعاً کیسا ہے، کیا اس میں سود تو نہیں ؟
اگر اس معاملہ میں کوئی شرائط فاسدہ نہ ہوں تو سائل کا شخص مذکور کے ساتھ مذکور طریقے سے معاملہ کرنا بلاشبہ جائز ہے اور اس میں کسی قسم کا سود بھی نہیں۔
کما فی الھندیۃ: قال: "المرابحة نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول مع زيادة ربح، (الی قولہ) ويجوز أن يضيف إلى رأس المال أجرة القصار والطراز والصبغ والقتل وأجرة حمل الطعام" لأن العرف جار بإلحاق هذه الأشياء برأس المال في عادة التجار؛ ولأن كل ما يزيد في المبيع أو في قيمته يلحق به الخ (3/56)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0