کاروبار

موروثہ کاروبار کو سنبھالنے کی وجہ سے ملکیت کا دعوی کرنا

فتوی نمبر :
85490
| تاریخ :
2025-08-22
معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

موروثہ کاروبار کو سنبھالنے کی وجہ سے ملکیت کا دعوی کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! جناب مفتی صاحب! میرا نام ماہ رخ منصور ہے۔میرے والد کا انتقال ۳ جولائی ؁۲۰۰۸ میں ہوا ، میرے ۳ بھائی اور ۲ بہنیں ہیں۔ انتقال کے فوراً بعد ہم نے مفتی سعید جلال پوری کی مشاورت سے اور باہمی رضامندی سے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت میرے بھایئوں کی عمریں ۲۱، ۲۰ اور ۱۴ سال تھی ، اور ہم بہنوں کی عمریں ۲۳، ۱۷، ۱۵ سال تھی، جس میں سے میں ۱۷ کی تھی۔ باہمی رضامندی سے ساتھ تو ہم چلنا چاہ رہے تھے، لیکن میرے بھائی عمر نے کہا کہ ایک ہی کرے تو بہتر ہے، ورنہ بہت جھگڑےہوجائیں گے ۔ شروع میں اس کے بڑے بھائی حمزہ سے بہت معاملات خراب تھے اور آئے دن گھر میں بدمزگی کی وجہ سے یہ طے پایا کہ حمزہ اب والد صاحب کے کاروبار میں دفتر نہیں جائے گا ۔ اس کے بعد امی ، پھر بہن نے بھی کاروبار میں شامل ہو کے مدد کرنا چاہی تو عمر نے صاف منع کردیا کہ عورتوں کے بس کی بات نہیں، جب کہ امی ابا کہ ساتھ مل کر ان کی مدد کیا کرتی تھیں ۔ ان سب معاملات کے بعد عمر نے کہا کہ میں سب کے لئے کرونگا اور کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور ہم سب نے تمام کاروباری معاملات عمر کو سونپ دئے ۔ کاروبار کے علاوہ ہمارا گھر اور ایک دکان کورٹ کچیری کی نظر تھی جو کہ والد صاحب کی حق حلال کی تھی، لیکن فراڈ اور مس انڈرسٹینڈنگ کی وجہ سے کورٹ میں تھی، یہ بھی عمر نے بھاگ دوڑ کرکے آزاد کرائی ۔ کاروبار میں مشکلات سے نکلنے کیلئے میری والدہ نے بھی اپنے سونے کے زیورات اور مرحوم بھائی کے ورثے کی رقم بھی دی ۔ ہم بہنوں نے کبھی ناجائز فرمائش نہیں کی اور میں ۲۰۱۵ سے نوکری بھی کررہی ہوں، تاکہ اپنی خواہشات کیلئے بھائیوں پر بوجھ نہ بنوں، جبکہ جو کچھ ان کا ہے،وہ شرعاً میرا بھی ہے ۔ لیکن اس وقت میرا تیرا کے معاملات نہیں تھے ۔
بہرحال ۲۰۱۶ میں عمر کی شادی ہوگئی اور وہ گھر کے معاملات بے انتہا خراب ہو گئے، عمر کی بیوی نے اپنی سیاست اور بدگمانیوں سے گھر کا حشر کر دیا اور عمر نے بھی بہت بدتمیزی شروع کردیں ، امی، بھائیوں اور بہنوں کو شدید گالم گلوچ کرنا معمول بن گیا ہے۔ مندرجہ میں میرے کچھ سوالات ہیں جن میں آپ کی شرعاًرہنمائی درکار ہے۔
سوال نمبر ( 1) عمر اب یہ کہتا ہے کہ سارا کاروبار اس نے بنایا تو اس کا ہے اور گھر بھی اس نے چھڑوایا تو یہ بھی اسی کا ہے۔ اکثر یہ کہتا ہے کہ بھائی کے گھر میں ہو عزت سے رہ لو، بھائی کے ٹکڑوں پر ہو، اوقات میں رہو ۔ کیا یہ کاروبار اور گھر بھایئوں کا ہےصرف ؟ یا پھر شرعی طور پر سب بھائی بہن اور ماں اس کے مالک ہیں؟
سوال نمبر ( 2 ) (یہاں پر میسجز دکھانے ہیں لیکن اوپشن نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کر سکتی، ان میسجز میں بے تحاشہ گالیاں ہیں) اوپر صرف ایک جھلک ہے وہ مجھے معمول کے طور پر برداشت کرنی پرتی ہے گھر میں ۔ منہ پر اور بھی برے لفظوں سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے، کیا مجھ پر لازم ہے کہ ۱۰۔۱۱ سال کی ذلالت کے بعد بھی میں عمر اور اس کی بیوی سے تعلق رکھوں؟

سوال نمبر ( 3 ) اگر میں اپنا ورثہ مانگوں تو باقی بھائیوں کو کہتا ہے کہ بہنیں گھر توڑ رہی ہیں اور میں نہیں توڑنے دونگا، باقی دونوں بھائیوں کو بھی راضی کیا ہوا ہے کہ بہنیں لالچی ہیں اور پیسے کے لیے گھر برباد کر رہی ہیں جبکہ میں الگ ہونا چاہتی ہوں بس۔ کیا عمر یہ شرعاََ اختیار رکھتا ہے کہ اپنی مرضی کے وقت پر ورثہ بھائی بہنوں میں تقسیم ہونے دے؟ اور کہے سب کچھ اس کا ہے اور یہ ہر چیز کا مالک ہے؟
سوال نمبر ( 4 )کیا مجھ پر لازم ہے کہ میں ان کفیلوں کے ساتھ ہی رہوں جہاں عزت تک نہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اللّہ ہے میری زندگی میں زلالت ہی لکھی ہے؟ وہ وعدہ کرتا ہے کہ قوت برداشت سے زیادہ نہیں آزماتا تو پھر میں اپنے والد کی وفات کے بعد سے صرف زلیل کیوں ہو رہی ہوں؟ کیا میں الگ ہو سکتی ہوں؟ میں غیر شادی شدہ ہوں
سوال نمبر ( 5 ) اگر میرے بھائی مجھے ورثہ نہ دیں یا میری مرضی کے بغیر یہ کہیں کے بعد میں دیں گے جب دینا ہوگا، تو جو پیسہ وہ اس کاروبار اور جائیداد سے کمائیں گے کیا وہ حرام ہو گا میررے بھائیوں پر؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی وضاحت کے مطابق جب سائلہ اور اس کے تمام بہن بھائیوں نے باہمی رضامندی سے اپنے مرحوم کے ترکہ میں موجود مشترکہ جائیداد کوکسی ایک بھائی کے سپرد کرکے اس کو بڑھایا ہو اور مذکور بھائی اس کاروبار کو ترقی دینے کے لیے کی جانے والی اپنی محنت کا معاوضہ طے کیے بغیر اس کاروبار کو بڑھاکر ترقی دی ہو تو یہ اس بھائی کی طرف سے تبرع و احسان تھا جس کا معاوضہ طلب کرنا یا اس کل مال و جائیداد کو اپنا ذاتی قرار دینا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ، بلکہ وہ کاروبار اور جائیداد مرحوم کے تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہے اور ہر ایک اس میں اپنے حصۂ شرعی کے مطابق مالک ہے ۔ لہذا اب کسی ایک بھائی کا اس کاروبار و جائیداد کو صرف اپنی ذاتی ملکیت قرار دیکر دیگر بہن بھائیوں کو ان کے شرعی حق سے محروم کرنا شرعاً ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔ اسی طرح بہنوں کو طعنہ دیکر ان کے ساتھ بد کلامی کرنا بھی شرعاً مذموم و گنا ہ ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
جہاں تک سائلہ کے اپنے بھائیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے قطع تعلق کی بات ہے تو سائلہ کو چاہیے کہ وہ قطع تعلق اختیار کیے بغیر صلح و افہام و تفہیم کے ذریعے اپنے بھائیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ مزید کشیدگی اور خانگی اختلافات پیداء نہ ہوں، سائلہ کے بھائیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ پنی بہوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آئیں اور جلد از جلد ان کی مرضی اور خوشنودی کے ساتھ کسی مناسب جگہ پر ان کے نکاح کا اہتمام کریں۔ ورنہ قیامت کے دن اللہ کے حضور جواب دہ ہونگے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: وَتَأۡكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا وَتُحِبُّونَ ٱلۡمَالَ حُبّٗا جَمّٗا ( الفجر)
قال اللہ تعالیٰ: لِّلرِّجَالِ نَصِيبٞ مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٞ مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ أَوۡ كَثُرَۚ نَصِيبٗا مَّفۡرُوضٗا( النساء: 7)-
وفی مشکاۃ المصابیح: وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم:«‌مَنْ ‌قَطَعَ ‌مِيرَاثَ وَارِثِهِ قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ(باب الوصایا، ج:2،ص: 926، ناشر: المکتب الاسلامی)-
وفی العقود الدریۃ فی تنقیح فتاویٰ الحامدیۃ : (سئل) في إخوة خمسة ‌تلقوا ‌تركة ‌عن ‌أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟(الجواب):نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا وحيث كان كل منهما صاحب يد لا يكون القول قول واحد منهما بقدر حصة الآخر فلو كان أحدهما صاحب يد والآخر خارجا واختلفا فالقول لذي اليد والبينة بينة الخارج اهـ وهذا بناء على الأصل في الشركة أنها بينهم سوية حيث لم يشرطوا شيئا اھ (شرکۃ العنان، ج:1، ص: 92، ناشر: دار المعرفۃ)-
وفی شرح المجلۃ: المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ(الکتاب العاشر : فی انواع الشرکات، ج 4 ، ص 27 ، ط دار الکتب العلمیۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85490کی تصدیق کریں
1     226
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ڈراپ شپنگ کا حکم - is Drop Shiping Halal in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 3
  • پرپال آن لائن کمپنی کا شرعی حکم - PrPal Earning in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • فاریکس کا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • گوہرشاہی والوں کی پروڈکٹ کی خریدفروخت

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ٹیکسی چلانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • StreamKar ایپ پر لائیوآنے اورکمائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • کاروبار کی نیت سے پرندوں کی خرید و فروخت اور بریڈنگ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • سردی میں خریدے ہوئے پنکھے گرمی میں مہنگے داموں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ویڈیوگیمزکی آمدنی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • حرام مال سے کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • پے رول( payroll financing ) فائنانسنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • الیکٹرونکس آلات ٹی وی،ایل سی ڈٰی وغیرہ بیچنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قسطوں پر خرید و فروخت کا درست طریقہ کار

    یونیکوڈ   کاروبار 1
  • آن لائن اپلیکیشن(IDA App)کے ذریعے کاروبار کرکے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • حکیم کا انگریزی دوا پیس کر مریض کو دینا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بائنانس ایپ کے ذریعہ کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قادیانی کو کپڑے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • مروّجہ اسلامی بینکوں کے ساتھ معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • سگریٹ اور نسوار کاکا روبارکرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ، شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • بیع عینہ کی تعریف اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • کرپٹو کرنسی میں فیوچر ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • تکافل اور انشورنس میں فرق

    یونیکوڈ   کاروبار 0
Related Topics متعلقه موضوعات