احکام نماز

نماز میں امام سے غلطی ہونا مقتدی کے وضو درست نہ ہونے کی علامت ہے؟

فتوی نمبر :
85794
| تاریخ :
2025-09-01
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں امام سے غلطی ہونا مقتدی کے وضو درست نہ ہونے کی علامت ہے؟

السلام علیکم
ہمارے یہاں ایک صاحب نے نماز پڑھاتے وقت قراءت میں فحش غلطی کی،جس کی وجہ سے نماز دوبارہ پڑھا گیا،نماز کے بعد امام صاحب نے کہا کہ آپ حضرات وضو اچھی طرح سے کر لیا کرے،کیونکہ مصلی کے وضو میں نقصان کا اثر امام کی قرائت میں ہوتا ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان کا یہ کہنا صحیح ہے؟شاید انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حدیث میں ہے،کیا یہ بات صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ امام صاحب کی مذکوربات درست ہے،نسائی شریف کی روایت ہے، حضرت شبیب ابن ابی روح آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں سے کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں ،کہ سرکار دو عالمﷺنے(ایک مرتبہ ) صبح کی نماز پڑھی ،اور اس کے اندر سورۃ روم کو پڑھا ،( اثناء نماز میں ) آپ کو تشابہہ ہوا ،چنانچہ جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا ،لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، اور اچھی طرح وضو نہیں کرتے ،اور اس وجہ سے یہ لوگ ہم پر قرآن میں اشتباہ ڈالتے ہیں۔ اوریہ روایت (جسکی سندکوعلامہ ابن ِحجررحمہ اللہ نےحسن قراردیاہے)اس سے معلوم ہوا کہ مقتدیوں کے نقصانِ وضو سے امام کی قراءت میں خلل واقع ہوتا ہے،لیکن امام کی قراءت میں خلل صرف اسی وجہ سے ہو ،یہ لازم نہیں ،بلکہ اسکی دیگر وجوہات ،جیسے امامِ مسجد کی دورانِ قراءت بے توجہی وغیرہ بھی ہوسکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

’’ کمافی المشکاۃ: وعن شبيب بن أبي روح - رضي اللہ عنه - «عن رجل من أصحاب رسول اللہ ﷺأن رسول اللہ ﷺصلّٰی صلاة الصبح فقرأ الروم فالتبس عليه، فلما صلّٰی، قال: ما بال أقوام يصلون معنا لا يحسنون الطهور؟ وإنما يلبس علينا القرآن أولئك» . رواه النسائي.(کتاب الطھارۃ،ج:1،ص:39،م:قدیم۔)
وفی المرقاۃ :(تحت ھذاالحدیث )والعجب من المؤلّف أنّه لم يذكره في أسمائه لا في التابعين ولا في الصحابة (عن رجل من أصحاب رسول اللہﷺ: وكلّهم عدول، ولذا جهالته لا تضرّ روايته، وقال ميرك اسمه أغر الغفاري (أنّ رسول اللہﷺ صلّٰی صلاة الصبح فقرأ) : أي: فيها (الروم) : أي: سورة الروم كلها أو بضعها في ركعة أو ركعتين (فالتبس) : أي: القرآن أو الروم يعني قراءته اشتبهت (عليه فلماصلّٰی) : أي: فرغ من الصلاة (قال: ما بال أقوام) : أي: ما حال جماعات ( «يصلون معنا لا يحسنون الطهور» ؟) بالضم ويفتح أي: لا يأتون بواجباته وسننه، قال الطيبي: قد تقدم معنى إحسان الوضوء في الفصل الأول، وفيه إشارة إلى أن السنن والآداب مكملات للواجب يرجى بركتها، وفي فقدانها سد باب الفتوحات الغيبية، وإن بركتها تسري إلى الغير كما أن التقصير فيها يتعدى إلى حرمان الغير. تأمل أيها الناظر إذا كان رسول اللہ ﷺيتأثر من مثل تلك الهيئة، فكيف بالغير من صحبة أهل البدعة؟ أعاذنا اللہ ورزقنا صحبة الصالحين (وإنما يلبس) : بالتشديد (علينا القرآن) : أي: يخلطه ويغلطه (أولئك) : أي: الّذين لا يحسنون الطهور من المنافقين أو غيرهم. (رواه النسائي) قال ابن حجر: بسند حسن.(کتاب الطھارۃ،الفصل الثالث،ج:2،ص:34،م:حقانیۃ۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85794کی تصدیق کریں
0     374
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات