احکام نماز

جانوروں کی نجاست کپڑوں پر لگنے سے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
86061
| تاریخ :
2025-09-14
عبادات / نماز / احکام نماز

جانوروں کی نجاست کپڑوں پر لگنے سے نماز کا حکم

السلام علیکم ! مفتی صاحب،
میں ایک ویٹرنری ڈاکٹر ہوں، دیہاتوں اور مختلف جانوروں کے فارموں پر جانوروں کے علاج کے لیے جانا پڑتا ہے، اکثر اوقات جانوروں کے منہ اور ناک سے نکلنے والی رطوبتیں ،پیشاب اور گوبر کپڑوں پر لگنا معمول کی بات بن گئی ہے اور اگر گوبر براہ راست نا بھی لگے جانوروں کے ہلنے جلنے سے گوبر اورپیشاب آلود پانی کی چھینٹیں اڑ کر کپڑوں پر لگ جاتیں ہیں، یہ چھینٹیں کہاں کہاں لگیں؟ یہ اندازہ کرنا اور انہیں دھونا ناممکن ہوتا ہے،کیوں کہ جانور جب دم ہلاتا ہے تو اس سے اڑنے والی چھینٹیں اس قدر باریک ہوتیں ہیں کہ کپڑوں پر لگنے کے چند سیکنڈ بعد خشک ہو جاتیں ہیں اور نا ہی اس نجاست کا یہ اندازہ لگانا ممکن ہوتا ہے کہ یہ ایک درہم سے کم ہے یا زیادہ ۔ اس صورت حال میں بندہ نماز پڑھنے کے حوالے سےانتہائی اضطراب کا شکار ہے،
1-کیا میری یہ صورت حال مجھے شرعی معذور بناتی ہے کہ گھر آکر تمام نمازیں پڑھ لوں؟
2-یا ان نجاست والے کپڑوں ہی میں نمازیں پڑھ سکتاہوں؟
3منہ اور ناک سے نکلنے والی رطوبت ،گوبر، پیشاب اور ان سے آلودپانی کی چھینٹوں کے نجاست کے حوالے سے بھی آگاہ فرمائیں۔ جزاک اللہ، والسلام۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو كہ حلال جانوروں کے منہ اور ناک سے نکلنے والی رطوبت پاک ہے، البتہ جانوروں کے پیشاب اور پاخانہ سے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ جن جانوروں کا کھانا حلال ہے، ان کا پاخانہ اور جن کا کھانا جائز نہیں، ان کا پاخانہ اور پیشاب دونوں نجاستِ غلیظہ ہے اور جن کا کھانا حلال ہے، ان کا پیشاب نجاستِ خفیفہ ہے، پس نجاستِ غلیظہ اگر جامد ہو تو ایک مثقال، یعنی ساڑھے چار گرام کی مقدار تک اور اگر مائع ہو تو ایک درہم کے برابر اور نجاستِ خفیفہ کسی عضو کے چوتھائی حصے سے کم لگ جائے، تو اگرچہ ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، لیکن اپنے اختیار سے ایسی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ، اور اگر پیشاب آلود پانی کى چھینٹىں کپڑوں پر لگ جائے اور وہ سوئی کے ناكہ کے برابر ہوں جو دکھائی نہ دے، تو وہ شرعاً معاف ہے، اسی طرح اگر گوبر آلود پانی جو پیشاب کی مانند ہو، اور وہ بھی کپڑوں پر مذكور مقدار كے بقدر لگے اور دکھائی نہ دے، تو وہ بھی شرعاً معاف ہے،لیکن اگر اس سے زياده ہو اور سب کوجمع کرکے مجموعى مقدار ایک درہم سے زیادہ بن جائے تو اس کے ساتھ نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔ جبكہ صورت مسئولہ میں مذكور عذر كى بنا پر سائل كو شرعاً معذور نہىں كہا جاسكتا اور اس كىلئے نمازىں قضا كر كے گھر مىں اىك ساتھ پڑھنا شرعاً جائز نہىں، بلكہ سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ دوسرا پاك کپڑا بھى رکھے اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو ناپاك کپڑا تبدیل کرکے پاک کپڑا پہن كر نماز ادا كرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الفتاوی الھندية: (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم(الى قوله) وبول ما لا يؤكل والروث وأخثاء البقر والعذرة ونجو الكلب وخرء الدجاج والبط والإوز نجس نجاسة غليظة هكذا في فتاوى قاضي خان (والثاني المخففة) وعفي منها ما دون ربع الثوب وبول ما يؤكل لحمه والفرس وخرء طير لا يؤكل مخفف هكذا في الكنز اهـ [كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثاني في الأعيان النجسة، ج:1 ص:46 ط: رشيدية)]
وفي الدر المختار: (وبول انتضح كرءوس إبر) وكذا جانبها الآخر وإن كثر بإصابة الماء للضرورة اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وبول انتضح) أي: ترشش، وشمل بوله وبول غيره بحر. وكالبول الدم على ثوب القصاب حلية عن الحاوي القدسي. وظاهر التقييد بالقصاب أي: اللحام أنه لا يعفى عنه في ثوب غير القصاب؛ لأن العلة الضرورة ولا ضرورة لغيره، وتأمله مع قول البحر المار وشمل بوله وبول غيره. (قوله: كرءوس إبر) بكسر الهمزة جمع إبرة احتراز عن المسلة كما في شرح المنية والفتح. (قوله: وكذا جانبها الآخر) أي: خلافا لأبي جعفر الهندواني حيث منع بالجانب الآخر، وغيره من المشايخ قالوا: لا يعتبر الجانبان واختاره في الكافي حلية؛ فرءوس الإبر تمثيل للتقليل كما في القهستاني عن الطلبة، لكن فيه أيضا عن الكرماني أن هذا ما لم ير على الثوب وإلا وجب غسله إذا صار بالجمع أكثر من قدر الدرهم. اهـ. وكذا نبه عليه في شرح المنية فقال: والتقييد بعدم إدراك الطرف ذكره المعلى في نوادره عن أبي يوسف اهـ [كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1 ص:323 ط: ایچ ایم سعید)]
وفي البحر الرائق: إذا أراد الإنسان دخول الخلاء وهو ‌بيت ‌التغوط يستحب له أن يدخل بثوب غير ثوبه الذي يصلي فيه إن كان له ذلك وإلا فيجتهد في حفظ ثوبه عن إصابة النجاسة والماء المستعمل. [كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فروع، ج:1 ص:243 ط: دار الكتاب الإسلامي)]
وفی الدر المختار: (ومأكول لحم) ومنه الفرس في الأصح ومثله ما لا دم له (طاهر الفم) قيد للكل (طاهر) طهور بلا كراهة، (و) سؤر (خنزير وكلب وسباع بهائم) ومنه الهرة البرية (وشارب خمر فور شربها) ولو شاربه طويلا لا يستوعبه اللسان فنجس ولو بعد زمان (وهرة فور أكل فأرة نجس) مغلظ اهـ [كتاب الطهارة، باب المياه، فروع، ج: 1، ص: 222-223، ط: ایچ ایم سعید).
وفی الفتاوى التاترخانية: وروى البغداديون عن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله أن ‌سؤر ‌ما ‌لا ‌يؤكل لحمه بمنزلة بوله إذا كان أكثر من قدر الدرهم الكبير أفسد الصلاة اهـ [كتاب الطهارة، الفصل في المياه التي يجوز الوضوء بها، ومما يتصل بسؤر الهرة، ج:1 ص:355 ط: رشيدية)]
وفي النتف في الفتاوى: فأما الإنسان فلأن ما يخرج منه على ثلاثة أقسام: قسم منه طاهر وبخروجه لا ينتقض الوضوء وان اصاب شيئا لا ينجسه وهو عشرة أشياء:١- وسخ الاذان ٢ - ودموع العين ٣ – والمخاط ٤ – والبزاق ٥ – والبلغم ٦ – واللبن ٧ – والعرق ٨ - ووسخ جميع البدن ٩ – والرمص ١٠ – واللعاب وكذلك هذه الأشياء من البهائم المأكول لحمها وغير المأكولة لحمها طاهر كله اهـ [كتاب الطهارة، ما يخرج من الانسان، ج:1 ص:35 ط: مؤسسة الرسالة، بيروت)]
وفي الدر المختار: (وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض، والعبرة لوقت الصلاة لا الاصابة على الاكثر. نهر (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي اهـ [كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1 ص:316 ط: ایچ ایم سعید)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86061کی تصدیق کریں
1     148
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات