السلام علیکم ، مجھے ایک بات پوچھنی ہے: کیا میں اپنی نفل نماز اور نفل روزوں کا ثواب اپنے مرحوم شوہر کو بخش سکتی ہوں؟
دوسری بات یہ کہ نماز کا وقت آ گیا ہے اور قریبی مسجد میں اذان ہو رہی ہے، تو کیا اذان ختم ہونے سے پہلے ہم نماز شروع کر سکتے ہیں؟ اور جمعے کی نماز سے پہلے کچھ خریدنا بیچنا منع ہے، تو جیسے ہم تو گھر میں نماز پڑھتے ہیں اور نماز کا وقت آ جاتا ہے تقریباً 12:45 بجے، تو کیا ہم 1:00 بجے کے بعد خریداری کر سکتے ہیں، اگر ہم نے نماز نہ پڑھی ہو؟ کیونکہ گھر کے قریب کئی مساجد ہیں جن کے الگ الگ اوقات ہیں۔
(۱) نفل نماز، نفل روزے، تلاوت، صدقہ، ذکر اور دعا وغیرہ کا مرحوم کو ایصالِ ثواب کرنا شرعاً جائز ہے، اور اس کا ثواب میت تک پہنچتا ہے۔لہذاسائلہ اپنے مرحوم شوہر کو نوافل کا ثواب بخش سکتی ہے، ان شاء اللہ انہیں نفع پہنچے گا۔
(۲) اگرنمازکاوقت داخل ہوچکاہوتو اذان ختم ہونے سے پہلے نماز شروع کرنا جائز ہے، اذان ختم ہونے کا انتظار کرنا کوئی لازمی شرط نہیں،البتہ مستحب یہ ہے کہ اذان مکمل ہونے کاانتظار اورآذان کا جواب دیدیاجائے۔لہٰذااگر سائلہ کو یقین ہے کہ نماز کا وقت داخل ہو چکا ہےتووہ اذان کے ختم ہونے کاانتظارکیے بغیربھی نماز شروع کرناچاہے تواس کی گنجائش ہے ۔
(۳) قرآن کریم میں جمعہ کے دن،اذان جمعہ کے بعد خریدوفروخت کی ممانعت ان لوگوں کے لیے ہے جن پر جمعہ کی نمازفرض قراردی گئی ہے،عورت پرچونکہ نماز جمعہ فرض نہیں ہوتا،لہذااس کے لیے جمعہ کی اذان کے بعد شرعاً خریداری منع نہیں ، چاہے اس نے ابھی ظہر کی نماز نہ پڑھی ہو۔البتہ بہتر یہ ہےکہ جس قدرجلدہوسکے نمازاداکرلی جائے، بلاوجہ نماز میں تاخیر کرنامناسب نہیں ،جس احترازچاہیے۔
کمافی الدر المختار: الأصل أن كل من أتى بعبادة ما له جعل ثوابها لغيره وإن نواها عند الفعل لنفسه لظاهر الأدلة،الخ
وفی الرد: تحت (قوله: بعبادة ما) أي سواء كانت صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة، أو غير ذلك من زيارة قبور الأنبياء عليهم الصلاة والسلام والشهداء والأولياء والصالحين، وتكفين الموتى، وجميع أنواع البر كما في الهندية ط وقدمنا في الزكاة عن التتارخانية عن المحيط الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء، اھ (کتاب الحجچ، باب الحج عن الغیر، ج 2، س 595، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الشامیۃ: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة، (کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی زیارۃ القبور، ج 1، ص 243، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی البحر الرائق: (قوله: وراجي الماء يؤخر الصلاة) يعني على سبيل الندب(الی قولہ) وأداء الصلاة في أول الوقت أفضل إلا إذا تضمن التأخير فضيلة لا تحصل بدونه كتكبير الجماعة ولا يتأتى هذا في حق من في المفازة فكان التعجيل أولى؛ ولهذا كان أولى للنساء أن يصلين في أول الوقت؛ لأنهن لا يخرجن إلى الجماعة كذا في مبسوطي شمس الأئمة وفخر الإسلام كذا في معراج الدراية وكذا في كثير من شروح الهداية الخ(کتاب الصلاۃ،باب التیمم،ج1،ص155،ط:ماجدیۃ)-
وفی التفسیر المظھری: ان الجمعة واجبة على الرجال كلهم دون النساء اجماعا ودون الصبيان لكونهم غير مكلفين لعموم قوله تعالى فاسعوا الى ذكر الله ولكن رخص فى تركها العبيد والمسافرين واصحاب العذر،الخ (سورۃ الجمعۃ، الآیۃ:9، ج 9، ص 284، ط: مکتبۃ الرشدیۃ)-