محترم ومکرم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
۱۔ کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام وعلماءِ شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ فرض نماز کی نیت، سنت نماز کی نیت اور وتر نماز کی نیت میں کچھ فرق ہے، بعض حضرات کا کہنا ہے نماز سنت میں یوں نیت ہوتی ہے: چار رکعت سنت واسطے رسول اللہﷺ کے، عربی زبان میں اس طرح مشہور ہے، ’’نویت ان اصلی للہ تعالیٰ رکعتی صلاة الفجر سنتِ رسول اللہ تعالیٰ متوجهاً إلی جہة الکعبة الشریفة اللہ اللہ اکبر‘‘، معلوم یہ کرنا ہے یہ الفاظ نیت کے ثابت شدہ ہیں؟ سنت کی نیت میں یہ کہنا درست ہے واسطے رسول اللہ کے؟ اور اگر یہ درست ہے تو نفل کی نیت اور وتر کی نیت کس طرح کریں گے؟ وضاحت فرما دیں۔
۲۔ امام کا طرح نیت کریں؟
اگرچہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے زبان کے بیان کا نہیں، زبان سے بیان اس ارادے کو مستحضر کرنا ہوتا ہے، جو بہرحال مستحسن اور مفید ہے، تاہم اِن نمازوں کی نیتوں میں قدرے فرق ہے، وہ یہ کہ سنت اور نفل کی نیت میں تو صرف یہ نیت کرنا بھی شرعاً کافی ہے کہ میں نفل یا سنت نماز پڑھتا ہوں ، اور فرض اور واجب میں تعیینِ وقت (مثلاً ظہر کے فرض یا آج کے وتر پڑھتا ہوں) کی نیت کرنا ضروری ہے ، اس طرح صحتِ نماز کے لیے اتنی نیت امام کے لیے بھی کافی ہے کہ میں ظہر کے فرض پڑھاتا ہوں، جبکہ نیت میں ’’سنتِ بہ اتباعِ رسول اللہ کے‘‘ کہنا عند البعض احتیاط پر مبنی قول ہے۔
ففی البحر الرائق: (قوله: والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي) أي الشرط في اعتبارها علمه أي صلاة يصلي أي التمييز، فالنية هي الإرادة للفعل (إلی قوله) قال بعض الحفاظ: لم يثبت عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من طريق صحيح ولا ضعيف أنه كان يقول عند الافتتاح أصلي كذا ولا عن أحد من الصحابة والتابعين بل المنقول أنه - صلى الله عليه وسلم »-كان إذا قام إلى الصلاة كبر« اھ (۱/ ۲۷۲)
وفی صحيح البخاري: قال: أخبرني محمد بن إبراهيم التيمي، أنه سمع علقمة بن وقاص الليثي، يقول: سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى» اھ (1/ 6)
وفی الفتاوى الهندية: والاحتياط في التراويح أن ينوي التراويح أو سنة الوقت أو قيام الليل كذا في منية المصلي والاحتياط في السنن أن ينوي الصلاة متابعا لرسول الله - صلى الله عليه وسلم -. كذا في الذخيرة الواجبات والفرائض لا تتأدى بمطلق النية إجماعا. كذا في الغياثية فلا بد من التعيين فيقول نويت ظهر اليوم أو عصر اليوم أو فرض الوقت أو ظهر الوقت اھ(1/ 65)
وفی الخانیة: هذا إذا کان منفردا فإن کان إماما فهو بمنزلة المنفرد اھ (۱/ ۸۳)
وفی الفتاوى الهندية: والإمام ينوي ما ينوي المنفرد ولا يحتاج إلى نية الإمامة حتى لو نوى أن لا يؤم فلانا فجاء فلان واقتدى به جاز. هكذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 66) واللہ أعلم بالصواب!