السلام علیکم !سعودی میں ویزا ڈرائیور کاہے اور کام سلائی کا کرے، آزاد کرنے پر کفیل بھی مہینے کےتین سو یا چار سو لیتے ہے اور حکومت بھی فیس لیتی ہے ،تو سلائی کام کرنا سہی ہے کہ نہیں؟ اور کمائی سہی ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ جو شخص کسی دوسرے ملک چلا جائے،تو اس پر اس ملک کے جائز قوانین کی پاسداری کرنا لازم ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کے پاس اگر ویزا ڈرائیونگ کا ہو،تو اس کے لئے شرعاً جائز نہیں کہ وہ ڈرائیونگ کے علاوہ کوئی اور ملازمت کرے،اگر وہ ایسا کرتا ہے،تو یہ شرعاً دھوکہ دہی اور معاہدہ کی خلاف ورزی کے زمرہ میں آتا ہے،تاہم ایسا کرنے کی وجہ سے اس کی آمدنی حرام نہ ہو گی۔
کما فی الصحیح للبخاری: عن عبد اللہ عن النبی ﷺ قال إن الصدق یھدی إلی البر و إن البر یھدی إلی الجنۃ و إن الرجل لیصدق حتی یکون صدیقا و إن الکذب یھدی إلی الفجور، و إن الفجور یھدی إلی النار و إن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا (باب قول اللہ تعالی(( اتقوا اللہ و کونو مع الصٰدقین )) و ما ینھی عن الکذب، ج 4، ص 2712، ط: بشری)۔
و فی الدر المختار: (افترض عليه إجابته) لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض فكيف فيما هو طاعة بدائع (لو قادرا) الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله: افترض عليه إجابته) والأصل فيه قوله تعالى {وأولي الأمر منكم}(الی قولہ) «عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم ما لم يأمركم بمنكر» ففي المنكر لا سمع ولا طاعة الخ (باب البغاۃ،ج 4،ص 265،ط:سعید)۔