احکام نماز

سوسالہ معمر خاتون کے آخری ایام کی نمازوں کا فدیہ

فتوی نمبر :
87853
| تاریخ :
2025-10-16
عبادات / نماز / احکام نماز

سوسالہ معمر خاتون کے آخری ایام کی نمازوں کا فدیہ

جناب محترم السلام علیکم!
8/10/2025کو ہماری ایک سو سال سے اوپر عمر کی بزرگ خاتون فوت ہو گیئ ہیں. وہ تمام عمر نماز روزہ اور شعایر اسلامی بلا قضا اداکرتی رہیں. لیکن عمر کا اخری سال بیماری اور معذوری میں گزرا. وہ نہ بول سکتی تھیں نہ کروٹ تک لے سکتی تھیں. اس وجہ سے ان کی اخری چند ماہ کی نمازیں قضا ہو گی ہیں.
سوال یہ ہے کیا ان نمازوں کا کفارہ ادا کرنا وارثوں پر واجب ہے یا نہیں؟ وہ مکمل معذور رہیں ،بولنا ہاتھ پاوں ہلانے تک محتاج. شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر مذکور خاتون اس قدر معذور رہی ہو کہ سر کے اشارہ سے بھی نماز پڑھنے پر قادر نہ تھی تو ایسی صورت میں اس پر ان ایام کی نمازوں کی قضا لازم نہ ہوگی البتہ اگر وہ اس قدر معذور نہ تھی تو اس پر ان نمازوں کی ادائیگی لازم تھی چنانچہ اگر وہ مرض یا دیگر اعذار کی بنا پر کچھ نمازوں کی ادائیگی نہ کر پائی ہو، اور اس نے ان نمازوں سے متعلق کوئی وصیت بھی نہ کی ہو، تو ایسی صورت میں اگرچہ ورثاء پر ان نمازوں کا فدیہ دینا لازم تو نہیں ہوگا، لیکن اگر کوئی وارث تنہا یا سب مل کر فدیہ دیدیں، تو یہ ان کی طرف سے تبرع وہ احسان شمار ہوگا اور ان کی فوت شدہ نمازوں کا کفارہ بن جائے گا ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (‌وإن ‌تعذر ‌الإيماء) برأسه (وكثرت الفوائت) بأن زادت على يوم وليلة (سقط القضاء عنه) وفي رد المحتار: (قوله بأن زادت على يوم وليلة) أما لو كانت يوما وليلة أو أقل وهو يعقل، فلا تسقط بل تقضى اتفاقا وهذا إذا صح، فلو مات ولم يقدر على الصلاة لم يلزمه القضاء حتى لا يلزمه الإيصاء بها (باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 99، ط: ايج ايم سعيد )
وفي الدر المختار:: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة وفي رد المحتار (قوله يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة ‌فيلزمه ‌ذلك ‌من ‌الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، (قوله نصف صاع من بر) أي أو من دقيقه أو سويقه، أو صاع تمر أو زبيب أو شعير أو قيمته (باب قضاء الفوائت: ج: 2، ص: 72-73، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: ‌وفي ‌فتاوى ‌الحجة ‌وإن ‌لم ‌يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز ويدفع عن كل صلاة نصف صاع حنطة منوين (الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت، ج: 1، ص: 125، ط: مكتبة ماجدية)
وفي البدائع: (ولنا) ما روي عن ابن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في المريض إن لم يستطع قاعدا فعلى القفا يومئ إيماء، فإن لم يستطع فالله أولى بقبول العذر أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أنه معذور عند الله - تعالى - في هذه الحالة، فلو كان عليه الإيماء بما ذكرتم لما كان معذورا، ولأن الإيماء ليس بصلاة حقيقة ولهذا لا يجوز التنفل به في حالة الاختيار، ولو كان صلاة لجاز كما لو تنفل قاعدا إلا أنه أقيم مقام الصلاة بالشرع، والشرع ورد بالإيماء بالرأس فلا يقام غيره مقامه، ثم إذا سقطت عنه الصلاة بحكم العجز فإن مات من ذلك المرض لقي الله تعالى ولا شيء عليه؛ لأنه لم يدرك وقت القضاء. (فصل: وأما أركانها فستة، ج: 1، ص: 108، ط: ايج ايم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87853کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات