میں ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا تھا جو کہ ایک مشہور شخصیت تھی، اپنی نیک نامی اور کامیابی کے لئے جانی جاتی تھی، جو چیز مجھے اس سے متاثر کر گئی، وہ یہ تھی کہ اس نے صرف اللہ کے لئے اپنی شہرت، مال اور سب کچھ قربان کر دیا، میں اس اخلاص اور ایمان داری سے بہت متاثر ہوا، اور کئی سالوں تک میں نے اللہ سے دُعا کی کہ وہ مجھے اس لڑکی سے نکاح کی نعمت عطا فرمائے، وہ مجھے جانتی بھی نہیں، اور نہ کبھی میری اس سے ملاقات ہوئی، لیکن میں نے اس کے اخلاص اور شخصیت سے متاثر ہو کر بہت مخلص دُعا کی، ان سالوں میں میں اللہ کے بہت قریب ہو گیا اور میری دینداری میں بھی اضافہ ہوا، مگر کچھ سال بعد میں گناہوں میں مبتلا ہو گیا اور 4–5 سال تک انہی میں رہا، اس دوران اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وہ دُعا مانگنے کی توفیق اور خواہش چھین لی، چند ہفتے پہلے میں نے سچے دل سے توبہ کی اور اللہ کی طرف پلٹا، توبہ کے بعد میرے دل میں دوبارہ وہی دُعا مانگنے کی خواہش پیدا ہوئی، جیسی پہلے تھی، لیکن کل رات مجھے معلوم ہوا کہ اسی رات اس لڑکی کا نکاح ہو گیا۔
اب میرا سوال یہ ہے : کہ کیا یہ اللہ کی تقدیر (تقدیرِ الٰہی) تھی کہ وہ میرے نصیب میں ہی نہ تھی؟ یا یہ میرے گناہوں کی سزا تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی اور کے نصیب میں دے دیا؟ مجھے اس صورت حال کو کیسے سمجھنا چاہیے اور اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ میں نہ تو اس کو دل سے نکال پا رہا ہوں اور نہ ہی سکون سے جی پا رہا ہوں، میں جانتا ہوں کہ اب اگر میں اس کے لئے دُعا کرتا ہوں، تو یہ گویا کسی کا گھر توڑنے کی دُعا بنے گی، جو کہ گناہ ہے، میں صرف دل کا سکون چاہتا ہوں، لیکن اس کا نہ ہونا میرے لئے بہت بڑا امتحان بن گیا ہے، میری روزمرہ زندگی متاثر ہو چکی ہے، اور حالت بہت شدت اختیار کر چکی ہے، کیا اب اس کے لئے دُعا کرنا حرام ہے؟ میں قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتا ہوں اور خود اسلامی علم کا طالب علم ہوں، مگر مجھے اس معاملے میں وضاحت نہیں مل پا رہی۔ براہِ کرم میری رہنمائی کریں کہ میں اس آزمائش کا مقابلہ کیسے کروں اور دل کو کیسے سکون دوں؟
واضح ہوکہ ہر انسان کا رشتہ، اس کا جوڑا اور اس کی زوجیت ازل ہی سے اس کی تقدیرمیں لکھ دی جاتی ہے ،اس میں گناہوں کا کوئی دخل نہیں ہوتا، کیونکہ تقدیر گناہوں سے تبدیل نہیں ہوتی ۔جو چیز مقدر میں نہ ہو، وہ بہترین نیکیوں کے باوجود بھی نہیں ملتی،اور جومقدرمیں ہونا طے ہوچکاہو،وہ گناہ گار انسان کو بھی مل کر رہتا ہے،لہٰذا سائل کویہ عقیدہ رکھناچاہیے کہ یہ معاملہ اس کے گناہوں کی سزاکے سبب نہیں، بلکہ اللہ کی حکمت اور قضا کے تحت انجام پایاہے۔اگرچہ تقدیرکے معاملات پوشیدہ اور مخفی ہیں اور تقدیر کے کئی فیصلے بندوں کے افعال پر بھی معلق ہوتے ہیں ، ممکن ہےکسی شخص کی شادی کامعاملہ بھی دعاؤں پر معلق ہو اور اس کی دعائیں و نیک اعمال اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطلوبہ جگہ پرشادی کرنے کا سبب بن جائے، اس لئےنیک اعمال کے ساتھ پسند کی شادی کے لئے دعا کر سکتے ہیں ، مگر اپنی پسند کو فیصلے کا درجہ دے کر مطلوبہ جگہ شادی نہ ہونے کی صورت میں دل برداشتہ ہو کر عبادات اور معاملاتِ زندگی سے رو گردانی کرنا درست نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اور اس کی کہیں دوسری جگہ شادی ہوگئی ہےتو اب سائل کو چاہیے کہ اس لڑکی سے شادی کی خواہش کو ترک کردے، کیوں کہ وہ اب کسی اور کی بیوی ہے، اور کسی شادی شدہ عورت کے لئے اپنے دل میں یہ چاہت رکھنا کہ میرا اس سے نکاح ہوجائے، یہ جائز نہیں، کیوں کہ ایسا تب ہی ممکن ہے جب اس کا موجودہ رشتہ ختم ہو جائے، لہٰذا سائل کو چاہیے کہ اس کو اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے دے، اپنی اس خواہش کو باقی رکھ کر اور اس کی کوشش میں لگ کر اپنے آپ کو مزید پریشان نہ کرے، اور خود کو ڈپریشن سے بچانے اور اس نفسانی خواہش کو ختم کرنے کے لئے اللہ سےخوب گڑگڑاکر دعا مانگے اور سائل کو چاہیے کہ جلدازجلد کسی دوسری جگہ شادی کرلے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان دعاؤں اور شادی کی برکت سے اللہ پریشانی کو دور کردیں گے۔ان شاءاللہ
کما فی مرقاة المفاتيح: الإيمان بالقدر فرض لازم، وهو أن يعتقد أن الله تعالى خالق أعمال العباد خيرها، وشرها، وكتبها في اللوح المحفوظ قبل أن خلقهم، والكل بقضائه وقدره، وإرادته، ومشيئته، غير أنه يرضى الإيمان والطاعة، ووعد عليهما الثواب، ولا يرضى الكفر والمعصية وأوعد عليهما العقاب. (إلی قوله)وفي كلامه خفاء إذ المعلق، والمبرم كل منهما مثبت في اللوح غير قابل للمحو، نعم المعلق في الحقيقة مبرم بالنسبة إلى علمه تعالى اه ( کتاب الایمان ، ج: 1 ، ص: 147 ، ط: حقانیہ)ـ