احکام نماز

وعدہ کی خلاف ورزی کرنے والے کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنا

فتوی نمبر :
88040
| تاریخ :
2025-10-19
عبادات / نماز / احکام نماز

وعدہ کی خلاف ورزی کرنے والے کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت مفتی صاحب! کیسے مزاج ہیں آپکے؟ امید ہے خیریت سے ہونگے، کچھ عرصہ پہلے میرے پا س ایک صاحب آئے تھے انہوں نے کہا کہ مجھے ایک فتویٰ چاہئے ، تو میں انکے لئے ایک فتویٰ لینا چاہتا ہوں۔
بات یہ ہیکہ ایک شخص ہے اسکا نام زید ہے (فرضی نام) اور دوسرے کا نام عمر وہے (فرضی نام) ، زید اور عمر ودونوں کی ایک ایک دوکان ہے، مسئلہ یہ ہوا کہ جو سپروائزر تھا ،اس نے غلطی سے زید کی دوکان کی بجلی کا بل عمرو کو دے دیا اور عمرو کا بل زید کو دیدیا ،پھر کچھ عرصہ بعد جب بات سامنے آئی تو پتہ چلا کہ زید کی دوکا ن کا بل 13,000 تھا (جو کہ عمرو کو بل ادا کرنا تھا جو نہیں کیا ) اور عمرو کی دوکان کا بل 22,000 آیا تھا (جو زید نے مکمل طور پر ادا کر دیا تھا ) اب جب زید نے عمر وکو کہا کہ میرا بل ادا کر یں اس شرط کے ساتھ کہ آپ ڈسکاؤنٹ نہیں کر وائینگے (کیوں کہ زید کا کہنا ہے کہ ڈسکاؤنٹ کرانے سے فی الوقت تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے لیکن بعد میں کے الیکٹرک والے پھر سے Add کر دیتے ہیں ) اورجو بقیہ پیسے ہیں وہ ادا کرے، لیکن عمر وکے پاس اتنے پیسے نہیں تھے توعمر ونے دو اور بندوں سے رابطہ کیا کہ آپ لوگ زید سے بات کر یں، تاکہ وہ کچھ ڈسکاؤنٹ کر دیں، جب ان دو بندوں نے بات کی تو یہ طے پایا کہ عمر بغیرو ڈسکاؤنٹ کے 13,000 کا مکمل بل ادا کریں گے اور بقیہ پیسے معاف ہیں، لیکن ان لوگوں نےمعاہدہ کی خلاف ورزی کی اور بل ڈسکاؤنٹ میں کر وا لیا۔ پھر تقریباً دو سے تین مہینے تک بل لگ کر آیا تو عمرو اور دو ساتھی دوبارہ سے کے الیکٹرک گئے اور پھر دوبارہ سے ڈسکاؤنٹ کروایا، پھر اسکے بعد سے اب تک وہ بل لگ کر نہیں آیا۔
اب مسئلہ یہ ہیکہ زید کا دل اب خراب ہو چکا ہے اور وہ ان سے سلام دعا کے علاوہ کوئی بات چیت نہیں کرتے ہیں اور کبھی کبھار جب امام مسجد نہیں ہو تے تو ان میں سے جب کوئی آگے بڑھ جاتا ہے تو انکے پیچھےنماز بھی نہیں پڑھتے ہیں۔
تو زید صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا آپ فتویٰ لیں اور اس میں یہ پوچھئےکہ آیا میں اس طرح سے کر کے گناہ گار تو نہیں ہو رہا ہوں۔براہِ کرم اسکا جواب دے دیں،جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ وعدہ خلافی اخلاقی اعتبار سے ناپسندیدہ عمل ہے،تاہم اگر کسی شخص سے وعدہ خلافی ظاہر ہوجائے،اور وہ بعد میں اپنے اس عمل کی اصلاح کرلے تو ایسی صورت میں محض ذاتی رنجش کی بنا ء پر اس کی اقتداء میں نماز چھوڑنا درست نہیں ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسمٰی عمر واور اس کے دیگر ساتھی اگر شرعاً امامت کے اہل ہوں تومسمٰی زید کامذکور واقعہ کی بناء پر ان کی اقتداء میں نماز ادا نہ کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں ،جس سے احتراز چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار : ( ویكره تقليد الفاسق ) ،وفي الشامي تحت (قوله ویكرہ الخ)، أشار إلى انه لا تشترط عدالتہ... وعند الحنفية ليست العدالة شرطا ص : ۵۴۸،م: سعید۔)
و في البحر الرائق : ( الجماعة سنة مؤكدة ) أي قوية تشبه الواجب في القوة والراجع عند أهل المذهب الوجوب – (باب الامامة ،ج ۱، ص: ۳۲۲ ، م : رشيدية۔)
وفي فتح القدير : وقد سمعت أن الجماعة تسقط بالعذر فمن الأعذار : المرض وكونه مقطوع اليد والرجل من خلاف أو مفلوجا أو مستخفيا من السلطان أو لا يستطيع المشي كالشيخ العاجز و غيره وان لم يكن بهم ألم ،وفي شرح الكنز والأعمى عند أبي حنيفةوالظاهر أنه اتفاق – (باب الامامة ،ج : ۱ ، ص :٣٠٠، م : رشيدية۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88040کی تصدیق کریں
0     245
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات