علماء دین اس مسجد میں دوسری جماعت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو بازار میں ریلوے اسٹیشن کے قریب ہے، وضاحت فرمائیں۔
واضح ہو کہ وہ مسجد جہاں آبادی ہو، اور اس میں امام مؤذن اور مقتدی مقرر اور متعین ہوں اور جماعت کے اوقات بھی متعین ہوں اور پنج وقتہ نما ز باجماعت اداکی جاتی ہو تو یہ محلہ کی مسجد شمار ہوگی اگرچہ وہاں بازار بھی ہو، لہذا ایسی مسجد میں ایک مرتبہ اذان واقامت کے ساتھ اہلِ مسجد کا باجماعت نماز اداکرلینے کے بعداس میں دوبارہ نماز کےلیے جماعت قائم کرنا مکروہ ہے،البتہ ایسی مساجد جو مستقل آبادی میں نہ ہوں بلکہ مسافر اور راستہ میں گزرنے وا لوں کے لیے بنی ہوئی ہوں اور ان کے لیے امام مؤذن اور نمازی متعین نہ ہوں بلکہ وہاں مسافر آکر اپنی جماعت کراتے ہوں ،تو اس قسم کی مساجد میں دوسری جماعت جائز ہوگی۔
کما فی الدر المختار: "و يكره تكرار الجماعة بأذان و إقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن. الخ (باب الإمامة، ج: 1، ص: 552، ط: سعید)
و فی ردالمحتار: و المراد بمسجد المحلة ما له إمام و جماعة معلومون كما في الدرر وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع. الخ( مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد، ج: 1، ص: 553، ط: سعید)۔