کاروبار

اطلاع دئیے بغیر ملازمت چھوڑنے کی صورت میں جرمانہ وصول کرنا

فتوی نمبر :
88614
| تاریخ :
2025-11-06
معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

اطلاع دئیے بغیر ملازمت چھوڑنے کی صورت میں جرمانہ وصول کرنا

السلام عليكم و رحمتہ الله و برکاتہ! میں ایک کاروباری شخص ہوں،اور میری کمپنی کا نام ٹیکٹرکس سسٹم(Techtrix System)ہے، جو انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)کے شعبے میں کام کر رہی ہے،ہم نے کچھ عرصہ قبل ایک خاتون کے ساتھ شراکت داری (Partnership) کا معاہدہ کیا تھا، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
پہلا معاملہ:شراکت داری
(1):سرمایہ مکمل طور پر ہماری طرف سے تھا (100٪)۔
(2): وه خاتون صرف محنت و کام (Working Partner) کے طور پر شامل تھی۔
( 3):نفع کی تقسیم 50٪/50٪کی بنیاد پر طے ہوئی تھی۔
(4): اگر وہ کاروبار چھوڑنا چاہے، تو چھ (6) ماہ پہلے اطلاع دینا لازمی تھا۔
(5):اگر وه اطلاع دیے بغیر اچانک چھوڑ دے، تو اسے کسی قسم کی رقم یا منافع نہیں دیا جائے گا۔
کچھ سال بعد وہ خاتون بغیر اطلاع کے اگلے ہی دن سے کام چھوڑ گئی ،اب سوال یہ ہےکہ چونکہ انہوں نے معاہدے کی اس شرط کی خلاف ورزی کی کہ چھ ماہ پہلے اطلاع دینا لازم ہے، تو کیا اس صورت میں وہ اپنے حصے کے منافع ،یا دیگر واجب الادا رقوم کی حق دار رہے گی ،یا نہیں؟
مزید یہ کہ ہمارے معاہدے میں یہ نہیں لکھا تھا کہ" پیسے ضبط کر لیے جائیں گے"، بلکہ صرف یہ درج تھا کہ اگر آپ نے شرائط پوری نہ کیں ،تو آپ کو کوئی رقم نہیں ملے گی۔
دوسرا معاملہ :ملازمین (Employment)
ہماری کمپنی میں ملازمین سے یہ شرط رکھی جاتی ہےکہ اگر کوئی ملازم ملازمت چھوڑنا چاہے ،تو کم از کم ایک ماہ پہلے اطلاع دینا لازم ہوگا،تاکہ کمپنی متبادل بندوبست کرسکے۔
عملی طور پر اکثر ملازمین اچھی آفر ملنے پر تنخواہ ملنے کے فوراً بعد بغیر اطلاع دیے چھوڑ جاتے ہیں، اس سے کمپنی کے جاری پروجیکٹس، ٹیم ورک ،اور کاروباری نظم و ضبط بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
اگر ہم ان کے واجب الادا پیسے روکیں، تو کہا جاتا ہے کہ اسلام میں مالی سزا دینا جائز نہیں ،اور اگر ہم نہ روکیں، تو کاروباری نظام غیر منظم ہو جاتا ہے ،کیونکہ ہر شخص اپنی سہولت سے جا سکتا ہے۔
اصل سوال :ہمیں جہاں تک علم ہے، اسلام کی روح سے کسی کو پیسوں کی سزا دینا، یا بطور سزا کسی کا حق روک لینا جائز نہیں،اگر ایسا ہی ہے ،تو پھر ہم اپنے ملازمین پر بھی اس شرط کا اطلاق نہیں کر سکتے، لیکن اگر ایسا کیا جائے، تو ہمارا کاروباری نظام نہیں چل پاتا، کیونکہ کوئی نظم و ضبط باقی نہیں رہتا۔
اب سوال یہ ہے کہ شراکت داری والے معاملے میں چونکہ یہ لکھا گیا تھا کہ شرط پوری نہ کرنے پر پیسے نہیں ملیں گے، تو کیا یہ شریعت کے مطابق جائز شرط ہے یا نہیں؟
(2): اگر یہ شرط ناجائز ہے، تو پھر ایسی صورت میں ہم کیسے یہ یقینی بنائیں کہ شراکت دار معاہدے کی خلاف ورزی نہ کریں؟
(3): اسی طرح ملازمین کے ساتھ اگر اطلاع دیے بغیر چھوڑنے پر مالی جرمانہ ،یا تنخواه کی کٹوتی جائز نہیں، تو پھر شرعاً ایسا کون سا نظام اپنایا جائے ،جس سے کاروبار کا نظم و ضبط برقرار رہے؟
(4): آخر اسلام کی روشنی میں ایسا متوازن حل کیا ہو سکتا ہے ،جس میں کسی کا حق ضائع نہ ہو ،اور کاروباری اصول و نظم بھی قائم رہے؟
ہماری نیت یہ ہے کہ ہمارا پورا نظام شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو، تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو، اور کاروبار کا نظم بھی درست رہے، براہِ کرم قرآن وسنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں تفصیلی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: کمپنی میں کا م طریقہ کار یہ تھا کہ لوکل مال خرید کر آگے بیچ دیتے تھے ،اور باہر ممالک سے سامان امپورٹ کروا کر وہ بھی بیچ دیتے تھے،آئی ٹی کا اپنابزنس تھا،جس میں سامان سوفٹ ویئر کی صورت میں بھی ہوتا تھا جو کہ فزیکل نہیں ہوتا تھا،اور زیادہ تر 80 یا90 فیصد سامان ایسا ہوتا تھا جو کہ فزیکل ہمارے پاس موجود ہوتا تھا ہارڈ ویئر کی صورت میں ،جبکہ خاتون کی ذمہ داری کی نوعیت یہ تھی کہ سامان خریدنا بیچنا ،پھر اس کی پیمنٹ ریکوری کرنا، کا م کو بڑھانا وغیرہ یہ ساری ان کی ذمہ داری تھی ،جو کہ عام الفاظ میں ہوتا ہے کہ" محنت آپ کی اور پیسہ ہمارا"،لیکن یہ بات بھی بتاتا چلو ں کہ اصل یہی تھا کہ محنت آپ کی ، اور پیسہ ہمارا ، لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ ہم کچھ کرتے نہیں تھے ،ہم بھی کچھ نہ کچھ کام میں شرکت کرتے تھے ،مطلب کبھی سامان بیچ دیا،ان کے منگوانے میں مدد کردی ،ٹریول کرنا ہے خریدنے کے لئے تو وہ کردیا ،یہ ان کی ذمہ داری تھی ،جبکہ اس خاتون کو جو سرمایہ مہیا کیاتھا،وہ پیسوں کی صورت میں تھا،لیکن ایسا کچھ نہیں کیا تھاکہ الگ آفس لیکر دیا ہو، اورکچھ فیکس اماؤنٹ بھی دے دی ہو مثال کے طور پر دو کڑور دے دیے ہو ں ،ایسا کچھ نہیں تھا،بلکہ ہم نے اپنے ہی آفس میں ان کو ایک کیبن دے دیا تھا،اور ایک روم دے دیا تھا ،جس میں دو لوگ رکھے تھے ،ان کو سنبھالتی تھی ، اور چلاتی تھی ،جب بھی پیسو ں کی ضرورت ہوتی تھی ،سامان لینا ہے ،تو ہم نے پیسے انویسٹ کردیے،اور پیسے سامان کی صورت میں واپس آکر ہمارے اسٹاک میں آگئے ،ایسا ہی چلتارہتا تھا کہ سامان بک گیا ،دوسرا منگوا دیا،یہ طریقہ کار تھا،اور اس خاتون کو ورکنگ پارٹنر کے طور پر رکھا گیا تھا،اور یہ بات بھی رکھی تھی کہ آپ اگرچھوڑ کر جائیں گی ،تو چھ ماہ پہلے بتانا لازمی ہے،اگر نہیں بتایا تو جو پیسے آپ کے نکل رہے ہوں گے ، ہم آپ کو نہیں دیں گے ،جبکہ خاتون کے ساتھ ہینڈ ورک کےلحاظ سے جو بات ہوئی تھی ،و ہ تو یہی ہوئی تھی کہ کام سارا آپ کریں گی ، اس خاتون کی طرف سے کوئی ڈیمانڈ نہیں تھی کہ آپ بھی کریں گے ،لیکن ضرورت کے وقت کام ہم کررہے تھے ،کیونکہ ہمارا تعلق بھی تھا،اور بہت ساری چیزوں میں وہ موجود بھی نہیں تھی،یا جن چیزوں میں ان کو نہیں پتہ تھا ،ٹریول کے جو معاملات تھے کہ وہ نہیں کر سکتی تھی ،وہ کرلیتے تھے،اور ہیلپ کے طور پر اپنی مرضی سے ہم بھی کام کررہے تھے،ورنہ صورتِ حال تو یہی تھی کہ سارا کام وہی کریں گی ،اورایسا انہوں نے کوئی شرط وغیرہ بھی نہیں رکھی تھی کہ آپ بھی کام کرو گے ، بلکہ ہم اپنا کام سمجھ کر اپنی خوشی سے کررہے تھے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل اور مذکور خاتون نے معائدہ کرتے وقت جو شرط لگائی تھی کہ" اگر اس خاتون نے کام چھوڑنے سے چھ ماہ قبل اطلاع نہیں دی،تواسے کسی قسم کی رقم نہیں ملے گی"شرعاً یہ شرط معتبر نہیں،لہذا مذکور خاتون اپنے کام کی وجہ سے جس قدر رقم کی مستحق ہوئی ہو، سائل کیلئے اس قدر رقم دینا شرعاً لازم اور ضروری ہوگا۔
(2):کمپنی اورملازمین کے درمیان ہونے والامعاملہ شرعا"عقدِاجارہ "کہلاتاہے ،جس میں ملازم اپنا وقت کمپنی کےکام کے لیے خاص کرنے کی وجہ مستحق اجرت بنتاہے، لہذاکمپنی کاملازمین کے ساتھ "عقدِ اجارہ" کرتے ہوئے یہ شرط لگانا کہ اگر کوئی ملازم بغیر پیشگی اطلاع کےکام چھوڑے گا،تو اس کی تنخواہ سے کٹوتی کی جائے گی ،یہ شرط مقتضائے عقدکے خلاف ہونے کی وجہ سے شرعاًمعتبرنہیں ، لہذا اس معاہدہ کی بنیادپرکمپنی کےلئےملازم کے بغیر پیشگی اطلاع دئیے ملازمت ترک کرنے کی وجہ سے بطورِ جرمانہ وسزااس کی سابقہ مہینہ کی تنخواہ روک لینا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر اس طرح پیشگی اطلاع دیے بغیر ملازمین کے ترک ملازمت کی وجہ سے کمپنی کاکام متاثرہوتاہو اورکام کےحرج سے بچنے کے لیے ملازمین کواس بات کاپابندبناناضروری ہوتو اس کے لئے درج ذیل متبادل جائز صورت اختیار کی جاسکتی ہیں۔
اس طرح بغیر اطلاع دیے ملازموں کا ملازمت چھوڑنے کی وجہ سے اگر کمپنی کو واقعی نقصان ہوتا ہو تو کمپنی متبادل کے طور پر یہ پالیسی بنا سکتی ہے کہ ایسےمستقل ملازمین جنہیں دیگر اداروں میں جانے کے لئے اور اچھے عہدہ پر تعیناتی کے لئے کارگردگی و تجربہ سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے ، تو ادارہ ان کا سرٹیفیکٹ اطلاع دینے اور کمپنی کی جانب سے نئی تعیناتی تک کام کرنے پر موقوف کردیں، جبکہ دیگر عام درجہ کے ملازم کی تقرری کے وقت اس کے ساتھ یہ معاہدہ کریں کہ ملازم خود اس بات کا التزام کرے کہ اگر وہ ادارہ کی پالیسی کے مطابق طے شدہ ایام سے قبل اطلاع دیے بغیر اپنا کام چھوڑ کر جائیگا ، تو وہ ادارہ کے پاس جمع شدہ رقم میں سے اتنی رقم ادارے کی توسط سے خیر کےکاموں میں صدقہ کرے گا ، اس کے لئے ادارہ کے اند ر ایک باقاعدہ الگ شعبہ قائم کردیا جائے ، جو اس بات کا تعین کرے کہ اس صدقہ کی رقم کو کن وجوہِ خیر میں شرعی اصولوں کے مطابق خرچ کیا جائیگا، تاہم کمپنی کے لئے یہ رقم اپنی ذاتی استعمال میں لانا یا کسی دوسرے ملازم کو بطورِ تنخواہ دینا جائز نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص:قال ابوبکر یحتج بہ فی ان کل من الزم نفسہ عبادۃ او قربۃ و اوجب علی نفسہ عقدا لزمہ الوفاء بہ اذ ترک الوفاء بہ یوجب ان یکون قائلا ما لایفعل و قد ذم اللہ فاعل ذالک و ھذا فیما لم یکن معصیۃ فاما المعصیۃ فان ایجابھا فی القول لا یلزمہ الوفاء بھا و قال النبی ﷺ لا نذر فی معصیۃ و کفارتہ کفارۃ یمین و انما یلزم ذالک فیما عقدہ علی نفسہ ممایتقرب بہ الی اللہ عز و جل مثل النذور و فی حقوق الادمیین العقود التی یتعاقدونھا اھ (3/442)۔
وفی اعلاء السنن"التعزیر بالمال جائز عند أبی یوسف، وعندہما وعند الأئمۃ الثلاثۃ لایجوز، وترکہ الجمہور للقرآن والسنۃ : وأما القرآن فقولہ تعالی :{فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم} ۔ وأما السنۃ فإنہ علیہ السلام قضی بالضمان بالمثل ولأنہ خبر یدفعہ الأصول فقد أجمع العلماء علی أن من استہلک شیئاً لم یغرم إلا مثلہ أو قیمتہ"اھ (11/ 733/ باب التعزیر بالمال)۔
وفی المبسوط للسرخسي:(والفصل) الثالث أن يقول إن خطته اليوم فلك درهم، وإن خطته غدا فلك نصف درهم فعند أبي حنيفة - رحمه الله - الشرط الأول جائز والثاني فاسد وعندهما الشرطان جائزان وفي القياس يفسد الشرطان وهو قول زفر - رحمه الله كما في الفصل الأول.(ألا ترى) أنه لو قال: في البيع إن أعطيت لي الثمن إلى شهر فعشرة دراهم الخ، قالا: إنه سمى عملين وسمى بمقابلة كل واحد منهما بدلا معلوما، فيجوز العقد،كما في الفصل الثاني.وهذا لأن عمله في الغد غير عمله في اليوم، ولصاحب الثوب في إقامة العمل في كل وقت غرض صحيح، وإنما يجب الأجر عند إقامة العمل، و لا جهالة عند ذلك اھ(15/ 101/102)۔
و فی البحوث فی القضایا الفقہیۃ المعاصرۃ:و اما اذا التزم انہ ان لم یوفہ حقہ فی وقت کذا فعلیہ کذا و کذا لفلان او صدقۃ للمساکین (الی قولہ)و اما علی اصل الحنفیۃ فان الوعد غیر لازم فی القضاء لکن صرح فقہاء الحنفیۃ با ن بعض المواعید قد تجعل لازمۃ لحاجۃ الناس (الی قولہ) یجوز ان ینص فی عقود المداینۃ مثل المرابحۃ عند المماطلۃ بالتصدق بمبلغ او نسبۃ بشرط ان یصرف ذلک فی وجوہ البر بالتنسیق مع ھیئۃ الرقابۃ الشرعیۃ للمؤسسۃ اھ (1/45/46)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88614کی تصدیق کریں
0     624
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ڈراپ شپنگ کا حکم - is Drop Shiping Halal in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 3
  • پرپال آن لائن کمپنی کا شرعی حکم - PrPal Earning in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • فاریکس کا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • گوہرشاہی والوں کی پروڈکٹ کی خریدفروخت

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ٹیکسی چلانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • StreamKar ایپ پر لائیوآنے اورکمائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • کاروبار کی نیت سے پرندوں کی خرید و فروخت اور بریڈنگ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • سردی میں خریدے ہوئے پنکھے گرمی میں مہنگے داموں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ویڈیوگیمزکی آمدنی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • حرام مال سے کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • پے رول( payroll financing ) فائنانسنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • الیکٹرونکس آلات ٹی وی،ایل سی ڈٰی وغیرہ بیچنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قسطوں پر خرید و فروخت کا درست طریقہ کار

    یونیکوڈ   کاروبار 1
  • آن لائن اپلیکیشن(IDA App)کے ذریعے کاروبار کرکے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • حکیم کا انگریزی دوا پیس کر مریض کو دینا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بائنانس ایپ کے ذریعہ کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قادیانی کو کپڑے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ، شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • مروّجہ اسلامی بینکوں کے ساتھ معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • سگریٹ اور نسوار کاکا روبارکرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بیع عینہ کی تعریف اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • کرپٹو کرنسی میں فیوچر ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • تکافل اور انشورنس میں فرق

    یونیکوڈ   کاروبار 0
Related Topics متعلقه موضوعات