احکام نماز

گاؤں کے لوگوں کا جمعہ پڑھنے کیلئے شہر کی طرف جانا

فتوی نمبر :
88710
| تاریخ :
2025-11-10
عبادات / نماز / احکام نماز

گاؤں کے لوگوں کا جمعہ پڑھنے کیلئے شہر کی طرف جانا

السلام عليکم ورحمت اللہ وبرکاتہ، محترم حاجی مفتی صاحب ہم صحرا میں رہتے ہیں، شریعت کے مطابق ہمارے علاقے میں جمعہ کی نماز قائم نہیں ہوتی، ہمارے مسجد کے امام جمعہ کے دن بازار جاتے ہیں اور وہاں جمعہ پڑھتے ہیں، ہمارے امام کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جمعہ کی نماز، گاؤں کی جماعت سے افضل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جمعہ کی نماز گاؤں کی عام نمازِ جماعت سے افضل ہے؟ اور اگر واقعی افضل ہے تو ہماری یہ نماز جو بغیر جماعت کے ہوتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایسا گاؤں جس میں شریعت کے مطابق جمعہ کی نماز قائم نہ ہوتی ہو ، وہاں رہنے والے باسیوں پر جمعہ واجب نہیں ہوتا، اور گاؤں یا قریہ صغیرہ کےلوگوں کے لیے جمعہ کا دن بھی عام دنوں کی طرح ہے، اور جس طرح عام دنوں میں ظہر کے وقت مسجد میں باجماعت ظہر ادا کرنا ضروری ہے، اسی طرح جمعہ کے دن بھی گاؤں کی مسجد میں نمازِ ظہر باجماعت ادا کرنا ضروری ہے ، لہذا سوال میں مذکور امام موصوف اگر کسی کام یا نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے شہر جاتے ہیں تو اگرچہ اس کی گنجائش ہے لیکن اسے مقامی مسجد میں کسی نائب کا انتظام کر کے جانا چاہیئے تاکہ اس کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقامی لوگوں کی جماعت فوت نہ ہو ، ورنہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کی وجہ سے وہ بھی گناہ گار ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: قد يقال: محله فيما إذا كان فيه جماعة؛ ألا ترى أن مسجد الحي إذا لم تقم فيه الجماعة وتقام في غيره لا يرتاب أحد أن مسجد الجماعة أفضل. على أنهم اختلفوا في الأفضل هل جماعة مسجد حيه أو جماعة المسجد. الجامع؟ كما في البحر ط.قلت: لكن في الخانية وإن لم يكن لمسجد منزله مؤذن فإنه يذهب إليه ويؤذن فيه ويصلي وإن كان واحدا لأن لمسجد منزله حقا عليه، فيؤدي حقه مؤذن مسجد لا يحضر مسجده أحد. قالوا: هو يؤذن ويقيم ويصلي وحده، وذاك أحب من أن يصلي في مسجد آخر. اهـ. ثم ذكر ما مر عن الفتح، ولعل ما مر فيما إذا صلى فيه الناس فيخير، بخلاف ما إذا لم يصلي فيه أحد لأن الحق تعين عليه الخ ( کتاب الصلاۃ، ج: 1، ص: 555، ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: تحت: (قولہ فی مصر)بخلاف القری لأنہ لا جمعۃ علیھم فکان ھذا الیوم فی حقھم کغیرہ من الایام شرح المنیۃ الخ ( باب الجمعۃ، ج: 2، ص: 157، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قائرات تبیک عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88710کی تصدیق کریں
0     2
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات