احکام نماز

سجدے میں امام سے پہلے جانے کا حکم

فتوی نمبر :
8872
| تاریخ :
2010-07-05
عبادات / نماز / احکام نماز

سجدے میں امام سے پہلے جانے کا حکم

السلام علیکم! مفتی صاحب ہمارے یہاں ایک بڑی دیوبندی مسجد میں امام صاحب بوڑھے ہیں ، جب وہ قومہ سے سجدہ میں جاتے ہیں تو آہستہ سے جاتے ہیں، جب کہ تقریباً آدھے سے زیادہ مقتدی اُن سے پہلے سجدے میں چلے جاتے ہیں ، اب امام سے پہلے مقتدی کا سجدہ کرنا مفسداتِ نماز میں سے ہے اور حدیث میں بڑی سخت وعید بھی آئی ہے، آیا اس صورت میں ان مقتدیوں کی نماز ہوگئی جو امام سے آگے بڑھ جاتے ہیں؟ امام صاحب سے میں نے اس بارے میں بات بھی کی ہے، لیکن پھر بھی مقتدی ویسے ہی سبقت لے جاتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ مقتدیوں کا مذکور عمل مناسب نہیں ، آئندہ کے لۓ انہیں اس معاملہ میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اگر وہ سجدہ میں جانے کے بعد امام کے سجدہ سے اُٹھنے سے پہلے نہ اُٹھتے ہوں، بلکہ جب امام تکبیر کہے اس کے بعد اُٹھتے ہوں تو ان کی نماز بلاشبہ ادا ہوجاتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی صحيح البخاري : عن محمد بن زياد ، سمعت أبا هريرة ، عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أما يخشى أحدكم - أو لا يخشى أحدكم - إذا رفع رأسه قبل الإمام ، أن يجعل الله رأسه رأس حمار ، أو يجعل الله صورته صورة حمار اھ (1/ 140)۔
و فی الفتاوى الهندية : و يكره للمأموم أن يسبق الإمام بالركوع و السجود و أن يرفع رأسه فيهما قبل الإمام . كذا في محيط السرخسي . (1/ 107)۔
و فی الدر المختار : (و لو ركع) قبل الإمام (فلحقه إمامه فيه صح) ركوعه ، و كره تحريما إن قرأ الإمام قدر الفرض (و إلا لا) يجزيه اھ (2/ 61)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله صح ركوعه) أي لتحقق الاقتداء بمشاركته في الابتداء بجزء من القيام ، فلا يضر التخلف بعده كما مر تقريره . (قوله و كره تحريما) أي للنهي عن مسابقة الإمام . اھ (2/ 61)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 8872کی تصدیق کریں
0     966
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات