السلام علیکم میری ماں کی عمر 83 سال ہے۔ وہ پچھلے 10 سالوں سے الزیمر کی بیماری میں مبتلا ہے۔ وہ مکمل طور پر اپنی یادداشت کھو چکی ہے۔ وہ گردے، بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریض بھی ہیں۔ وہ کئی سالوں سے کمزوری، بیماری یا یادداشت کی کمی کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتی اور نہ ہی روزے رکھ سکتی ہے۔
کیا اس کی گمشدہ نمازوں اور روزوں کا کفارہ دینا ضروری ہے؟ براہ کرم رہنمائی کریں۔
حوالے
جزاک اللہ
صورت مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ کی یادداشت مذکور بیماری کی وجہ سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہو کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھی ہو اور اسے نماز روزے کے اوقات کی تمیز اور احساس بھی نہ ہوتا ہو تو جب سے یہ کیفیت ہوئی ہے اس وقت سے چھوٹی ہوئی نمازوں اور روزوں کی قضا واجب ہے اور نہ ہی فدیہ، اس لیے اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
كما في الهدايه: ومن أغمي عليه خمس صلوات ،او دونها: قضى. وان كان أكثر من ذلك: لم يقض.. أن المدة اذا طالت كثرة الفوائت فيحرج في الاداء واذا قصرت قلت فلا حرج.(ج:1،ص:319،مكتبة البشرى).
وفي فتح القدير على هامش الهداية:وكلامنا فيما اذا صح المريض بعد ذلك، لا فيما اذا مات قبل القدرة على القضاء، فلا يجب عليه ولا الايصاء به_(ج:1،ص:317،باب صلاةالمريض،مكتبةالبشرى).
وفي رد المحتار: تحت قوله (وان تعذر الايماء وكثرت الفوائت سقط القضاء عنه وعليه الفتوى): فلو مات ولم يقدر على الصلاة لم يلزمه القضاء حتى لا يلزمه الايصاءبها كالمسافر ( ج: 2،ص:99،مط: ایچ ایم سعید کراچی ) .