قرآنِ کریم کی آیات (متن و ترجمہ) اور احادیثِ مبارکہ (متن و ترجمہ) کے کاپی رائٹ کے بارے میں شرعی حکم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں،کیا قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کے متن اور ان کے تراجم پر شرعی طور پر کوئی کاپی رائٹ ہوتا ہے؟اگر مختلف پبلشرز قرآن یا احادیث کو اپنی ترتیب، خطاطی، کمپوزنگ یا ڈیزائن کے ساتھ شائع کرتے ہیں، تو کیا ان کی جانب سے PDF، تصاویر یا کتاب کی شکل میں موجود مواد کو غیر تجارتی، دینی نفع اور صدقہٴ جاریہ کی نیت سے سوشل میڈیا (فیس بک، پیج، یا دیگر پلیٹ فارمز) پر شیئر کرنا شرعاً جائز ہے؟اگر کوئی فرد صرف قرآن و حدیث کے متن یا ترجمے کا اسکرین شاٹ لے کر یا ڈاؤن لوڈ کرکے شیئر کرے، تو کیا اس میں کسی قسم کی کوئی شرعی قباحت کا اندیشہ تو نہیں؟براہِ کرم ان امور کے متعلق شرعی رہنمائی عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر پبلش کرنے والی کمپنیاں قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کو اپنی ترتیب، خطاطی، کمپوزنگ اور ڈیزائن کے ساتھ شائع کرتی ہوں اور ہرعام وخاص کو ان کےنشر کی اجازت بھی دیتی ہوں، تو ایسی صورت میں ان کی شائع کردہ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ اور ان کا ترجمےکو صدقۂ جاریہ اور دینی نفع کی نیت سے نشرکرناجائز ہوگا، لیکن عموماً یہ کمپنیاں طباعت کے بعد اپنی مطبوعات کی آزادانہ نشر واشاعت کی اجازت نہیں دیتیں، بلکہ خود متعلقہ ادارے اس کی اشاعت کے مجاز ہوتے ہیں، لہٰذا اگر مصنف یا ادارےنے اپنی کتاب کے حقِ طباعت و نشر (Copyright) کو قانونی طور پر محفوظ کر رکھا ہو تو اس کی اجازت کے بغیر اس کتاب(چاہے قرآن وحدیث کی کتب کیوں نہ ہوں) کی پی ڈی ایف بنا کر اس کو باقاعدہ پبلش کرنے سے احتراز لازم ہے، البتہ کسی خاص موقع پر محض ایک دو ورق کی اسکرین شاٹ لے کر شائع کرنے میں (جبکہ اس میں کوئی دھوکہ دہی کا عنصر شامل نہ ہو) کوئی حرج نہیں۔
کما فی فقہ البیوع: فاالراجح عندنا واللہ سبحانہ و تعالی أعلم أن حق الإبتکار و التالیف حق معتبر شرعا فلا یجوز لأحد أن یتصرف فی ھذا الحق بدون إذن من المبتکر أو المؤلف و ینطبق ذالک علی حقوق برامج الکمبیوتر أیضاً و لکن التعدی علی ھذا الحق إنما یتصور إذا أنتج أحد مثل ذلک أو المنتج أو الکتاب أو البرنامج یشکل واسع للتجارۃ فیہ أو بقصد الإسترباح أما إذا صورۃ لإستعمالہ الشخص أو لیھبہ إلی بعض أصدقائہ بدون عوض فإن ذلک لیس من التعدی علی حق الإبتکار فیما توغّل فیہ نشرۃ الکتب و منتجو برامج الکمبیوتر من منع الناس من تصویر الکتاب أو قرص الکمبیوتر أو جزء منہ لإستفادۃ شخصیۃ ولیس للتجارۃ فإنہ لامبرر لہ أصلاً وھذا ماینطبق علیہ إن مالک الکتاب أو القرص بملک ماشاء فیہ من التصرفات للإستفادۃ الشخصیۃ و لیس للمنتج أن یمنعہ منھا وانما الممنوع أن ینتج مثلھا بقصد إسترباح والتجارۃ فیہ بدون إذن منہ الخ۔ احکام بیع الحقوق، ج:1، ص: 281، ط: مکتبہ معارف القرآن)۔
وفی الفقہ السلامی وادلتہ : اولاً : الاسم التجاري و العنوان التجاري والعلامة التجارية والتأليف والاختراع أو الابتكار هي حقوق خاصة لأصحابها أصبح لها في العرف المعاصر قيمة مالية معتبرة لتمول الناس لها وهذه الحقوق يعتد بها شرعاً فلا يجوز الاعتداء عليها. ثانياً : يجوز التصرف في الاسم التجاري أو العنوان التجاري أو العلامة التجارية ونقل أي منها بعوض مالي إذا انتفى الغرر والتدليس والغش باعتبار أن ذلك أصبح حقاً مالياً. ثالثاً : حقوق التأليف و الاختراع أو الابتكار مصونة شرعاً و لأصحابها حق التصرف فيها ولا يجوز الاعتداء عليها (حقوق التألیف مصونۃ شرعاً لایجوز الاعتداء علیھا، ج: 7، ص: 5077، ط: مکتبہ رشیدیۃ)۔