حضرت کیا کیکڑے یا دوسرے سمندری جانور جو حرام ہیں اسکی تجارت (ایکسپورٹ)جائز ہے؟
واضح رہےکہ خنزیر کے علاوہ تمام جانوروں (چاہےوہ سمندری ہو یاخشکی کے)کی خریدوفروخت اس شرط کے ساتھ جائزہے کہ ان سے کسی بھی قسم کا جائز انتفاع ممکن ہوچاہے کھانے کی صورت میں ہو بشرط حلت یا دوائی وغیرہ دیگر مصنوعات کی صورت میں، چنانچہ احناف کے ہاں سمندری جانوروں میں مچھلی کے علاوہ باقی جانوروں کا کھانا نا جائز ہے،تاہم اگر کیکڑےوغیرہ دیگرسمندری جانوروں کوکسی جائز مقصد (ادویات وغیرہ میں استعمال کرنے )کیلئےکام میں لایا جاتا ہو تو مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری جانوروں کے ایکسپورٹ اور کاروبار بھی شرعا جائز اور درست ہوگا اور اسکی آمدنی بھی حلال ہے
کما فی الدر المختار :بخلاف غيرهما من الهوام) فلا يجوز اتفاقا كحيات وضب وما في بحر كسرطان، إلا السمك وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه. (ج:5 ،ص:68، مطبع :ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً: وبيع غير السمك من دواب البحر لو له ثمن كالسقنقور وجلود الخز ونحوها يجوز وإلا فلا وجمل الماء قيل يجوز حيا لا ميتا (ج :5، ص:51،مطبع :ایچ ایم سعید)
وفی مجمع الانھر: وفي التخصيص إشعار بعدم جواز هوام الأرض كالحية والعقرب ودواب البحر غير السمك كالضفدع والسرطان، لأن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع وحرمة الانتفاع بها، وقال بعضهم: إن بيع الحية يجوز إذا انتفع بها للأدوية، ولا يخفى أن هذه المسألة مستدركة بما مر في البيع الفاسد كما في القهستاني لكن في البحر وبيع غير السمك من دواب البحر إن كان له ثمن كالسقنقور وجلود الخز ونحوها يجوز وإلا فلا (ج:2،ص:198، مطبع:دار احیاء التراث العربی )
و فی الھدایۃفی شرح بدایۃ المبتدی: بخلاف الهوام المؤذية لأنه لا ينتفع بها و فی حاشیۃ الھدایۃ تحت قولہ بخلاف الھوام ای ھوام الارض کالخنافس والعقارب والفارۃ والوزع والقنافذ والضب وھوام البحر کالضفدع والسرطان۔
(ج:3، ص:1166، مطبع: مکتبۃ البشری)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0