۱۔ کیا نماز کا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے یعنی اگر میں نے دس سال کی نمازیں نہیں پڑھی تو کیا میں کچھ رقم یعنی پیسے دے کر کفارہ اداکر سکتا ہوں؟
۲۔ اور دوسرا یہ ہے کہ اگر میں صاحبِ حیثیت ہوں اور مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے اور اس مہینے میرے پاس پیسے نہیں ہے تو کیا میں اس کو دو یا تین مہینے کے گیپ سے ادا کر سکتا ہوں؟
۱۔سائل اپنی فوت شدہ نمازوں کا کفارہ ادا نہیں کر سکتا ہے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ اپنی ان تمام فوت شدہ نمازوں کی قضاء کرے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ قضاء نمازیں ادا کرتے وقت نیت اس طور پر کرے کہ میں مثلاً فجر کی نماز جو سب سے پہلے میرے ذمہ قضاء ہے اس کو ادا کرتا ہوں اسی طرح ہر نماز کے وقت ایک فوت شدہ نماز ادا کر لیا کرے اور وتروں کی بھی قضاء کرے۔
۲۔ جی ہاں! بوقتِ مجبوری مثلاً مصرف نہ ملنے وغیرہ کی صورت میں بقدرِ ضرورت ادائیگی زکوٰۃ میں تاخیر بھی کی جا سکتی ہے۔
ففی الدر المختار: ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح بخلاف الصوم اھ(2/ 74)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح) في التتارخانية عن التتمة: سئل الحسن بن علي عن الفدية عن الصلاة في مرض الموت هل تجوز؟ فقال لا، وسئل أبو يوسف عن الشيخ الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم وهو حي؟ فقال لا اهـ وفي القنية: ولا فدية في الصلاة حالة الحياة بخلاف الصوم. اهـ. (2/ 74)
ففی الدر المختار: (وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر اھ(2/ 271)