میں گودام میں کام کرتا ہوں، وہاں لوگ دواؤں کے کارٹنز کو فرش بنا کر نماز پڑھتے ہیں، کیا دواؤں، اِنفیوشن فلوئڈز (جیسے Panamin-G، Aminoval، Dextrose وغیرہ) یا کنڈومز وغیرہ کے کارٹنز کو فرش بنا کر نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے؟ مہربانی فرما کر اس سلسلے میں کوئی واضح اصول بتا دیں جس سے معلوم ہو جائے کہ کس قسم کے کارٹن پر نماز درست ہے اور کس پر نہیں۔
واضح ہوکہ جس چیز پر نماز پڑھی جائے، اس کی طہارت (پاکیزگی) شرط ہے، لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر مذکور کارٹنز نجس (ناپاک) نہ ہو، اور نہ ہی ان پر کسی جاندار کی تصویر ہو، تو ان پر نماز پڑھنا بلا شبہ جائز ہے۔
کما فی حاشية ابن عابدين: تحت قوله (قوله مبسوط على نجس إلخ) قال في المنية: وإذا أصابت الأرض نجاسة ففرشها بطين أو جص فصلى عليها جاز وليس هذا كالثوب، (إلی قوله) قال في شرحها: وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقا يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لا يجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظا بحيث لا يكون كذلك جازت. اهـ. (1/ 626)-
و فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: يشترط طهارة "موضع القدمين"...."و" منها طهارة موضع "اليدين والركبتين" على الصحيح لافتراض السجود على سبعة أعظم....."و" منها طهارة موضع "الجبهة على الأصح،(كتاب الصلوة، ص:209، ط:دارالکتب العلمیة)-