احکام نماز

فضائل اعمال کے ایک واقعہ پر اشکال اور تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
89431
| تاریخ :
2025-12-01
عبادات / نماز / احکام نماز

فضائل اعمال کے ایک واقعہ پر اشکال اور تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کا حکم

اسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ استاذ جی فضائل اعمال میں ایک بزرگ کے بارے میں زکریا رحمتاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ایک بزرگ نے تراویح نماز میں دو پورے قرآن اور تیسری قرآن کے دس پارے مکمل کیے خالانکہ اتنا قرآن نماز میں پڑھنا تراویح نماز میں ناممکن ہے اور دوسری جگہ ایک حدیث میں ہے کہ اگر کسی شخص نے تین دین سے کم مدت میں قرآن کی تکمل کی تو وہ گناہ گار ہے اس کا جواب مجھے چاہئے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ روایت سے مقصود تکمیلِ قرآن کریم کے لیے دنوں کی کوئی خاص حد مقرر کرنا نہیں جس میں کمی یا اضافہ نہ ہوسکتا ہو۔ بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ عموماً دنیوی مشاغل کے ساتھ اتنے کم وقت میں قرآنِ مجید ختم کیا جائے تو تلاوت کا حق ادا نہیں ہوگا، لیکن اگر کوئی شخص تلاوت کا حق ادا کرتے ہوئے اس سے کم وقت میں قرآنِ پاک مکمل پڑھ لے تو اسے ممنوع نہیں کہا جائے گا، چنا نچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد امت کے اَکابرین سے بکثرت منقول ہے کہ وہ ایک یا دو دن میں قرآنِ پاک ختم فرمایا کرتے تھے۔اور فضائل اعمال کے اس واقعہ کو بھی اسی پر محمول کرنا چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحيح البخاري - بحاشية السهارنفوری :قوله (واقرأ في كل سبع ليال مرة) وسيجيء في آخر حديث من الباب: "فاقرأه في سبع ولا تزد على ذلك" قال القسطلاني (١١/ ٣٧٣ - ٣٧٤) وغيره: ليس النهي للتحريم كما أن الأمر في جميع ما مرَّ في الحديث ليس للوجوب خلافًا لبعض الظاهرية حيث قال بحرمة قراءته في أقل من ثلاث، وأكثر العلماء كما قاله النووي على عدم التقدير في ذلك، وإنما هو بحسب النشاط والقوة، وقد كان بعضهم يختم في يوم وليلة وبعضهم ثلاثًا، وكان ابن الكاتب الصوفي يختم أربعًا بالنهار ويختم أربعًا بالليل، انتهى مختصرًا، وسيجيء بعض بيانه في الصفحة الآتية إن شاء اللَّه تعالى.( كتاب أبواب فضائل القرآن ٣٤ - باب في كم يقرأ القرآن؟،ج :۱۰، ص : ۳۴۵، ح : ۵۰۵۲، ط: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية -)
و فی تفسير ابن كثير :قال الشيخ أبو زكريا النواوي في كتابه "التبيان" بعد ذكر طرف مما تقدم: والاختيار أن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص فمن كان له بدقيق الفكر لطائف ومعارف فليقتصر على قدر يحصل له كمال فهم ما يقرؤه وكذا من كان مشغولًا بنشر العلم وغيره من مهمات الدين ومصالح المسلمين العامة فليقتصر على قدر لا يحصل بسببه إخلال بما هو مرصد له، وإن لم يكن من هؤلاء فليستكثر ما أمكنه من غير خروج إلى حد الملل والهذرمة.
( البكاء عند قراءة القرآن ،ج : ۱ص۱۱۸،ط: دار ابن الجوزي )
و فی تفسیر ابن کثیر :عن الإمام الشافعي أنه كان يختم في اليوم والليلة من شهر رمضان ختمتين، وفي غيره ختمة. وعن أبي عبد الله البخاري -صاحب الصحيح-: أنه كان يختم في الليلة ويومها من رمضان ختمة. ومن غريب هذا وبديعه ما ذكره الشيخ أبو عبد الرحمن السلمي الصوفي قال: سمعت الشيخ أبا عثمان المغربي يقول: كان ابن الكاتب يختم بالنهار أربع ختمات، وبالليل أربع ختمات. وهذا نادر جدا. فهذا وأمثالة من الصحيح عن السلف محمول إما على أنه ما بلغهم في ذلك حديث مما تقدم، أو أنهم كانوا يفهمون ويتفكرون فيما يقرؤونه مع هذه السرعة، والله أعلم.( مقدمة ابن كثير ۔البكاء عند القراءة۔ج : ۱،ص : ۸۵۔ط : دار طيبة للنشر والتوزيع)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89431کی تصدیق کریں
0     331
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات