کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ 1976ء میں ایک شخص نے مجھ سے مبلغ 800 روپے قرض لیے اور کہا کہ میں زمین خریدتا ہوں قرضہ دیتے وقت میں نے اس سے کوئی بات نہیں کی اور پیسے دے دیئے، اور واپسی کی کوئی تاریخ یا وقت طے نہیں کیا، اس وقت فی ایکڑ زمین 200 تا 300 روپے تھی تو اس شخص نے جو قرضہ لیا وہ آج تک واپس نہیں کیا ۔
اب آنجناب سے استدعا ہے کہ اس کے قرضہ کی واپسی کی کیا صورت ہوگی ؟ کیا اس زمین میں میرا بھی حصہ ہوگا یا نہیں ؟ آیا زمین کا اس وقت جو ریٹ تھا اس حساب سے قرضہ وصول کیا جائے گا یا موجودہ ریٹ کے حساب سے؟ کہ براہ کرم صحیح شرعی نقطہ نظر سے آگاہ کریں۔
صورت مسئولہ میں جب مذکور شخص نے آٹھ سو (800) روپے بطور قرض لئے ہے تو اب کئی سال گزرنے کے بعد بھی اس پر صرف مذکور رقم (800) کا ہی لوٹانا لازم ہے، جبکہ زمین کی خریداری وغیرہ کا حیلہ کر کے اس سے زائد کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے الا یہ کہ اگر وہ اپنے طور پر آٹھ سو روپے لوٹانے کے عوض سائل کو کوئی پلاٹ وغیرہ دیدے تو اس کا اسے اختیار ہے ،اگرچہ شرعاً اس پر یہ لازم نہیں۔
و في الدر المختار: (استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه اھ (5/ 162)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): و في كافي الحاكم لو قال: أقرضني دانق حنطة فأقرضه ربع حنطة، فعليه أن يرد مثله وإذا استقرض عشرة أفلس، ثم كسدت لم يكن عليه إلا مثلها في قول أبي حنيفة، وقالا: عليه قيمتها من الفضة يستحسن ذلك وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه، وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها اھ (5/ 162)
و في الدر المختار: فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة. (وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك اھ (5/ 161)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0