السلام علیکم، میں کچھ سال پہلے ایک کمپنی میں کام کرتا تھا، وہاں میں نے اور کچھ لڑکوں نے ایڈوانس لیا تھا، لیکن جب سیلری آئی، تو سب سے ایڈوانس کٹ گیا تھا، لیکن مجھ سے نہیں کٹا تھا، پھر میں نے برانچ منیجر کو بھی بتایا، لیکن اس نے کچھ نہیں کیا، پھر بھی دل مطمئن نہیں ہوا، ایک دن فائنانس منیجر آیا، جو ہماری سیلری کا ذمہ دار تھا ، اس کو بھی بتایا، اس نے کہا كه ٹھیک ہے، لیکن اس نے بھی کچھ نهىں کیا، پھر مجھ سے پیسے نہیں کٹے اور سیٹھ کے ساتھ کا مجھے پتہ نہیں ہے، وہ بہت بڑا آدمی ہے، پتہ نہیں کہاں ملیگا۔پھر میں نے نوکری چھوڑ دی اور ڈیڑھ سال کا اینکریمنٹ کے پیسے بھی نہیں لئے اور آج کوئی اور نوکری کررہا ہوں، لیکن وہ ایڈوانس پیسے میرے دل پر آج بھی بوجھ ہے، ابھی میں کیا کروں ۔آپ رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ۔اور کیا اس سیٹھ کا مجھ پر قیامت کے یہ حق باقی ہوگا یا نہیں؟ والسلام۔
صورت مسئولہ میں سائل کی جانب سے انکریمنٹ کی صورت میں چھوڑی گئی رقم اگر ایڈوانس کے بقدر یا اس سے زائد ہو تو ایسی صورت میں وہ سائل کے لیےگئے قرض کی ادائیگی شمار ہوکر سائل قرض سے بری الذمہ قرار پائےگا، لیکن اگر وہ مذکور ایڈوانس سے کم ہو اور واپسی کی بھی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو سائل کو چاہیے کہ وہ اضافی رقم اصل مالک کی طرف سے صدقہ کر دے، امید ہے اس عمل سےوہ اخروی مؤاخذہ سے بچ جائے گا، ان شاءاللہ۔
كما في مصنف عبد الرزاق: عن أبي وائل شقيق بن سلمة ، قال: «اشترى عبد الله بن مسعود من رجل جارية بست مائة أو بسبع مائة ، فنشده سنة لا يجده ، ثم خرج بها إلى السدة ، فتصدق بها من درهم ودرهمين عن ربها ، فإن جاء صاحبها خيره ، فإن اختار الأجر ، كان الأجر له ، وإن اختار ماله ، كان له ماله» ، ثم قال ابن مسعود: «هكذا افعلوا باللقطة» (كتاب اللقطة، ج: 10، ص: 139، الرقم: 18631، ط: المجلس العلمي- الهند، توزيع المكتب الإسلامي - بيروت)
وفي سنن أبي داؤد: عن عياض بن حمار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من وجد لقطة فليشهد ذا عدل أو ذوي عدل، ثم لا يغيره ولا يكتم، فإن جاء ربها، فهو أحق بها، وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء» (كتاب اللقطة، باب اللقطة، الرقم: 2505)
وفي الدر المختار: (عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبى.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. (كتاب اللقطة، ج: 4، ص: 283، ط: ايج ايم سعيد)
وفي مجمع الأنهر: وفي التنوير من عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله ويسقط عنه المطالبة في العقبى. (كتاب اللقطة، ج: 1، ص: 709، ط: دار الطباعة العامرة بتركيا)
وفي الأشباه والنظائر: القول في الدين وعرفه في الحاوي القدسي بأنه: عبارة عن مال حكمي يحدث في الذمة ببيع أو استهلاك أو غيرهما.وإيفاؤه واستيفاؤه لا يكون إلا بطريق المقاصة عند أبي حنيفة.اهـ (ص: 350، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: "وقال أبو حنيفة: له أن يأخذ بقدر حقه إن كان نقدًا أو من جنس حقه، وإن كان المال عرضًا لم يجز؛ لأن أخذ العوض عن حقه اعتياض، ولاتجوز المعاوضة إلا بالتراضي، لكن المفتى به عند الحنفية جواز الأخذ من خلاف الجنس."(استيفاء حقوق العباد، ثانيا: استيفاء حقوق العباد المالية: استيفاء الحق من مال الغير بصفة عامة: ج: 4، ص: 153، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكويت)
وفي فتح القدير للكمال ابن الهمام: (لأن الديون تقضى بأمثالها) لا بأعيانها (إذ قبض الدين نفسه) أي قبض نفس الدين (لا يتصور) لأنه وصف ثابت في ذمة من عليه (إلا أنه جعل استيفاء العين حقه من وجه) استثناء من قوله لأن الديون تقضى بأمثالها: يعني أن الديون وإن كانت تقضى بأمثالها لا بأعيانها لما ذكرنا آنفا، إلا أن قبض المثل جعل استيفاء لعين حق الدائن من وجه ولهذا يجبر المديون على الأداء، ولو كان تملكا محضا لما أجبر عليه، وكذا إذا ظفر الدائن بجنس حقه حل له الأخذ. (باب التحكيم، ج: 7، ص: 342، ط: : شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0