احکام نماز

نماز میں لحن جلی کرنے والے شخص کی امامت کا حکم

فتوی نمبر :
89879
| تاریخ :
2025-12-10
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز میں لحن جلی کرنے والے شخص کی امامت کا حکم

سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں
1- نماز میں لحن جلی کا کیا حکم ہے؟
2- تکبیرات انتقال کو بہت زیادہ کھینچنا (اللہ اکبر میں لفظ اللہ کی مد کو ایک الف سے زیادہ کھینچنا کہ مقتدی امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں چلا جائے) اس کا کیا حکم ہے؟
3- رکوع سے قومہ میں مکمل کھڑے ہونے کے بعد پھر رکوع سے اٹھنے کی تکبیر کہنا
4- جہری نماز میں لحن جلی کرنے والا امام سری نماز پڑھا سکتا ہے؟
نیز درج ذیل غلطیاں لحن جلی ہیں یا لحن خفی؟
1 "سَمِعَ الله لمن حمده" کو "سَمِيَ الله" (ع کی جگہ ی پڑھنا)
2 "صَدَّقَ" کو "سَدَّكَ" ، "خَلَقَكَ" کو "خَلَكَكَ" ( ص کو س ، ق کو ک )
3 "وَلَا سُوَاعًا" (سورہ نوح) کو "وَلاسُعَاوًا" . یعنی "ع" کو "و" اور "و" کو "ع"؟
ان سوالات کا تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں
جزاکم اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نماز کے دوران قراءت کرتے وقت تلفظ میں ایسی غلطی کرنا جس سے معنی میں بگاڑ نہ آئے، اس سے نماز فاسدنہیں ہوتی ، البتہ اگر تلفظ میں ایسی غلطی ہو جائے جس سےمعنی بگڑ کر تبدیل ہو جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ غلطی ایسے دو حروف کے درمیان ہو جو باہم قریب المخرج نہ ہوں( یعنی ان دونوں کے تلفظ ایک دوسرے سے ملتےجلتے نہ ہو) اوردونوں کے تلفظ کے درمیان فرق با آسانی ممکن ہو اس سے معنی میں بھی تغیر پیدا ہوجائےتو، اس سے بالا تفاق نماز فاسد ہو جاتی ہے ،دوسرا یہ کہ غلطی ایسے دو حروف کے درمیان ہو جو قریب المخرج ہوں جیسے : سین اور صاد، زاء اور ظاء، تاء اور طاء وغیرہ، ایسی غلطی سے نماز کے فاسد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دوقول ہیں :پہلا قول جو اکثر فقہاء کا ہےوہ یہ کہ ایسی غلطی سے نماز فاسد نہیں ہوتی، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ اگر جان بوجھ کر ایسی غلطی کی تو نماز فاسد ہو جائے گی، لیکن اگر بلا قصد زبان سے غلط تلفظ نکل گیا یا ان حروف کے صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے ایک حرف کی جگہ دوسرا پڑھ دیا اور معنی میں تغیر پیدا ہو گیاتو نماز فاسد نہیں ہوگی، یہ قول قاضی امام ابو حسن اور قاضی ابو عاصم کا ہے، یہ قول احوط ہے، جبکہ پہلا قول اوسع ہے ، اوردونوں پر عمل کی گنجائش ہے، البتہ نماز جیسی عبادت کے معاملے میں احتیاط پر عمل کرنا بہتر ہے، لہٰذا ایسے شخص کو امام بنانا جو حروف کی صحیح تلفظ کے ساتھ ادا ئیگی پر قادر نہ ہو اور مقتدیوں میں صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے والا موجود ہو ، درست نہیں،البتہ اگر اس مسجد میں اس سے بہتر کوئی نماز پڑھانے والا نہیں ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھتےہوئےمناسب انداز میں امام صاحب یا کسی ذمہ دار کو اچھے انداز میں صحیح مسئلہ بھی بتادیں، جبکہ تکبیرات انتقالات کہتے وقت ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف مکمل طور پر منتقل ہو نے کے بعد تکبیر کہنا خلاف سنت ہو نے کی وجہ سے درست نہیں، اوراس میں یہ خرابی بھی پائی جاتی ہے کہ اگر امام رکوع سے اٹھنے کے بعد تکبیر کہے گا تو بعد میں آنے والے مسبوق کو امام کے قیام کی حالت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ پچھلی صف کے نمازیوں کے ساتھ رکوع میں شریک ہو جائے گا اور یہ سمجھے گا کہ میں نے یہ رکعت امام کے ساتھ پائی ہے، جبکہ حقیقت میں امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد شریک ہونے کی وجہ سے اس کی یہ رکعت امام کے ساتھ شمار نہیں ہوگی، لہذا عوام اور خاص طور پر ائمہ کرام کے لیے اس سے بچنا ضروری ہےبلکہ سنت طریقہ یہ ہے کہ امام جب رکوع سے جھکے ہوئے حالت میں تکبیر شروع کرکےقومہ کی طرف مکمل کھڑے ہونےكے ساتھ تکبیر ختم کرے ،اور اس بناء پر اگر وہ لفظ اللہ کے کھڑے زبر کو کسی قدر کھینچتاہے تو اگر چہ یہ تجوید لحاظ سے درست نہیں مگر نماز میں اس ہیئت پر عمل کرنے کے لئے اس کی کسی قدر گنجائش معلوم ہو تی ہے ۔


مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیۃ: (ومنها) ذكر حرف مكان حرف إن ذكر حرفا مكان حرف ولم يغير المعنى بأن قرأ إن المسلمون إن الظالمون وما أشبه ذلك لم تفسد صلاته وإن غير المعنى فإن أمكن الفصل بين الحرفين من غير مشقة كالطاء مع الصاد فقرأ الطالحات مكان الصالحات تفسد صلاته عند الكل وإن كان لا يمكن الفصل بين الحرفين إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين والطاء مع التاء اختلف المشايخ قال أكثرهم لا تفسد صلاته. هكذا في فتاوى قاضي خان.وكثير من المشايخ أفتوا به قال القاضي الإمام أبو الحسن والقاضي الإمام أبو عاصم: إن تعمد فسدت وإن جرى على لسانه أو كان لا يعرف التميز لا تفسد وهو أعدل الأقاويل والمختار هكذا في الوجيز للكردري اھ (ج1، صـــ79)۔
وفیھا أیضاً: ولا يجوز إمامة الألثغ الذي لا يقدر على التكلم ببعض الحروف إلا لمثله إذا لم يكن في القوم من يقدر على التكلم بتلك الحروف فأما إذا كان في القوم من يقدر على التكلم بها فسدت صلاته وصلاة القوم إلخ (ج1،صـــ86)۔
وفی الشامیۃ: اعلم أن المد إن كان في الله، فإما في أوله أو وسطه أو آخره، فإن كان في أوله لم يصر به شارعا وأفسد الصلاة لو في أثنائها، ولا يكفر إن كان جاهلا لأنه جازم والإكفار للشك في مضمون الجملة إلخ (ج1، صـــ480)۔

وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:قوله: "بعد تمام الإنتقال" كأن يكبر للركوع مثلا بعد الانتهاء إلى حد الركوع أو يقول سمع الله لمن حمده بعد تمام القيام والسنة أن يكون ابتداء الذكر عند ابتداء الإنتقال وانتهاؤه عند انتهائه وإن خالف ترك السنة قال في الأشباه كل ذكر فات محله لا يؤتى به في غيره(ص: 351) دار الكتب العلمية بيروت ۔
وفي رد المحتار:(قوله مع الانحطاط) أفاد أن السنة كون ابتداء التكبير عند الخرور وانتهائه عند استواء الظهر، وقيل إنه يكبر قائما، والأول هو الصحيح كما في المضمرات( ج :١ص: 493 ناشر سعيد)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89879کی تصدیق کریں
0     436
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات