السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
کیا صف ایڑی کو لگا کر کرنگے یا پائوں کی انگلیوں کو ؟کیا یہ صحابہ کے دور سے اختلاف چلا آرہا ہے؟ درست بات پر کچھ روشنی ڈالیں، کیونکہ پاکستان انڈیا ملیشیا میں لوگ ایڑی کی طرف سے کرتے ہیں، مگر عرب دنیا میں اگلے حصے سے اور انگریز دنیا میں کچھ ایسے اور کچھ ویسے ۔
صفوں کی درستگی میں ایڑھيوں اور کندھوں کا اعتبار ہے، اور یہی قول راجح اور حضرا ت صحابہ سے منقول ہے، اس کے برعکس پاؤں کی انگلیوں کا اعتبار کرنے سے صفوں کے درمیان برابری ممکن نہیں، لہذا صفوں کی ترتیب میں ٹخنوں کے برابر ٹخنے اور کندھوں کے محاذات میں کندھے کرنے کا اہتمام چاہیے۔
كما في صحيح البخاري: عن أنس رضي الله عنه ، عن النبي ﷺ قال: «أقيموا صفوفكم، فإني أراكم من وراء ظهري. وكان أحدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه، وقدمه بقدمه.». [باب إلزاق المنكب بالمنكب والقدم بالقدم في الصف، رقم الحديث (725)]
وفي رد المحتار: وإن تفاوتت الأقدام صغرا وكبرا فالعبرة للساق والكعب. [ط ايچ ايم سعيد، (1/ 567)]
وفي الفتاوى الهندية: وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف. [(1/ 89)]