احکام نماز

کیا خطبہ جمعہ عربی زبان کے علاوہ میں ہوسکتا ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
89900
| تاریخ :
2025-12-11
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا خطبہ جمعہ عربی زبان کے علاوہ میں ہوسکتا ہے یا نہیں؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ :
جمعہ کا خطبہ کیا، عربی زبان کے علاوہ میں ہوتا ہے کہ نہیں؟ اور کم از کم کیا کریں تو ہو جاتا ہے ؟اور مکروہ تحریمی ہے کہ تنزیہی اور اس کا اثر اور مطلب کیا ہے؟ اور کیا عربی کے علاوہ خطبہ کرنا بدعت ہے اور سنا ہے کہ بعض لوگ عام بیان اور خطبے کو خلط ملط کر دیتے ہیں اس پر عبارت ائماء اربعہ کے مستند کتب سے اور قرآن احادیث کی روشنی میں مع دلائل کے بیان فرمائیں
کیونکہ گمراہ فرقوں کے لئے یہ موقع ملتا ہے ہمیں بھکانے کاکہ عربی ہمیں آتی نہیں اصول و ضوابط کیا ہیں احادیث کی اصطلاحات سے واقفیت نہیں ناسخ ومنسوخ کیا ہے اجماع کیا ہے قیاس شرعی کیا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین )کے زمانے سے نیز تعاملِ امت کی بنا پر مواظبت کے ساتھ جمعہ کا خطبہ صرف عربی زبان میں ہی دینا ثابت ہے۔ اور خطبہ محض تقریر نہیں بلکہ نماز کا حصہ ہو کر عبادت (نمازِ جمعہ) کا جز ہے، اس لیے خطبہ صرف عربی زبان میں ہی پڑھنا لازم ہے، اگر عربی کے علاوہ دوسری زبان میں جمعہ کا خطبہ پڑھا جائے تو اس سے جمعہ کی نماز تو صحیح ادا ہو جائے گی، لیکن عربی زبان کے علاوہ خطبہ پڑھنا مکروہِ تحریمی ہونے کے ساتھ ساتھ بدعت بھی ہے، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔ مزید وضاحت کے لیے فقہی مقالات جلد 3 کا مطالعہ فرمائیں، جب کہ خطبہ کی کم از کم مقدار کہ جس پر صحتِ صلاۃ موقوف ہے، یہ ہے کہ خطبہ کی نیت سے ایک مرتبہ ذکر اللہ یعنی الحمدللہ، سبحان اللہ یا لا الٰہ الا الله پڑھ لیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في عمدة الرعاية:ولا يشترط كونها بالعربية ؛ فلو خطب بالفارسية أو بغيرها جاز، كذا قالوا ، والمراد بالجواز هو الجواز في حق الصلاة ، بمعنى أنه يكفي لأداء الشرطية ، وتصح بها الصلاة، لا الجواز بمعنى الإباحة المطلقة ، فإنّه لا شك في أن الخطبة بغير العربية خلاف السنة المتوارثة عن النَّبي الله والصحابة الله فيكون مكروهاً تحريماً، وكذا قراءة الأشعار الفارسية الهندية فيها ، وقد فصلنا هذا المقام في رسالتنا «آكام النفائس في أداء الأذكار بلسان الفارس قوله : نحو تسبيحة ؛ هذا بيان مقدار الخطبة الشرط ، وحاصله : أنه يكفي فيها مقدار التسبيحة أو تحميدة أو تهليلة بنية الخطبة ؛ لإطلاق قوله الله : إِذَا نُودِى لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ) .لكن لا يخلو الاقتصار على هذا من الكراهية. كما في «الدر المختار»، و«جامع الرموز» لكونه مخالفاً السُّنَّة ؛ فإنَّ النَّبِيَّ ﷺ كان يخطبُ خُطبتين ويجلس بينهما جلسة خفيفة هذا عند أبي حنيفة له.وأما عندهما : فلا بد من ذكرٍ طويل يُسمَّى خُطبة.(باب صلاة الجمعة.ج:٢،ص:٣٢٥،مط:دار الكتب العلميه)
وفي الهنديه:الخطبة تشتمل على فرض وسنة ‌فالفرض ‌شيئان ‌الوقت وهو بعد الزوال وقبل الصلاة حتى لو خطب قبل الزوال أو بعد الصلاة لا يجوز، هكذا في العيني شرح الهداية، والثاني ذكر الله تعالى، كذا في البحر الرائق وكفت تحميدة أو تهليلة أو تسبيحة، كذا في المتون.هذا إذا كان على قصد الخطبة أما إذا عطس فحمد الله أو سبح أو هلل متعجبا من شيء لا ينوب عن الخطبة إجماعا، كذا في الجوهرة النيرة.( الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج:١،ص:١٤٦،مط:،ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89900کی تصدیق کریں
1     316
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات