محترم مفتی صاحب!
میری ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت تھی۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ لاہور جوہر ٹاؤن کے علاقے میں ایک مسجد ہے جس کی رینوویشن کروانی ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنے کمپنی کے مالک سے بات کروں۔ چونکہ میرے کمپنی کے مالک بھی اس دوست کو جانتے تھے، اس لیے میں نے مالک سے بات کی، اور انہوں نے رینوویشن کروانے کی منظوری دے دی۔
اس کے بعد مسجد کی رینوویشن کا کام شروع ہو گیا۔ میں اسی دوران چالیس دن کے لیے جماعت میں چلا گیا۔ جو ٹھیکے دار رینوویشن کر رہا تھا ،وہ مجھے واٹس ایپ پر بل بھیجتا، میں وہ بل اپنے مالک کو فارورڈ کر دیتا اور مالک خود ٹھیکے دار کو ادائیگی کر دیتے تھے۔ میرے ذریعے کوئی ایک روپیہ بھی ادا نہیں ہوا۔
کچھ عرصہ بعد کمپنی نے مجھے ملازمت سے نکال دیا، اور مالک نے ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ میں نے مسجد کی رینوویشن میں پیسے کھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے بہت قریبی دوست نے انہیں یہ بات بتائی ہے۔ میں نے مالک سے کہا کہ:
پہلی بات: میں اس دوران موجود ہی نہیں تھا، میں جماعت میں تھا۔
دوسری بات: تمام ادائیگیاں آپ نے خود ٹھیکے دار کو کیں، میرے ہاتھ سے کوئی رقم نہیں گزری۔
تیسری بات: جس دوست نے آپ کو یہ الزام بتایا، کیا اس نے مجھے اپنی آنکھوں سے پیسے لیتے دیکھا؟ اس پر مالک کوئی جواب نہ دے سکے۔
آخر میں میں نے پوچھا کہ کیا اس الزام پر آپ کے پاس دو گواہ موجود ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے کیا بغیر ثبوت، گواہ یا تحقیق کے مجھ پر مالی الزام لگا کر مجھے ملازمت سے نکال دینا درست ہے؟ اور ایسی صورت میں شرعاً اس الزام اور میری بدنامی کا کیا حکم ہے؟
براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
کسی مسلمان پر جھوٹا الزام لگانا ناجائز اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے ،اس لئے مذکور الزام لگانے والے شخص کے پاس اگر بینہ (گواہان وغیرہ کی صورت میں ثبوت )نہ ہو ،تو اس کا صرف اس بنیاد پر سائل کو ملازمت سے فارغ کرنا شرعاً درست نہیں،لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس قبیح عمل پر بصدق دل توبہ واستغفار کرے ،اور اگر سائل کو مذکور ملازمت سے سبکدوش کرنے کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو تو اس الزام کی وجہ سے اس کی جو بدنامی ہوئی ،اسے ملازمت پر بحال کر کے اس کا ازالہ بھی کرے ۔
کما قال اللہ تعالی : وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ بِغَيۡرِ مَا ٱكۡتَسَبُواْ فَقَدِ ٱحۡتَمَلُواْ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا ،آیۃ : 58،سورۃ حزاب ۔).
و فی صحیح البخاری : عن أبي ذر رضي الله عنه: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (لا يرمي رجل رجلا بالفسوق، ولا يرميه بالكفر، إلا ارتدت عليه، إن لم يكن صاحبه كذلك) [رقم الحدیث : 3317]
و فی مرقاۃ المفاتیح : عن ابن عباس مرفوعاً: لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر۔ قال النووي: هذا الحديث قاعدة شريفة كلية من قواعد أحكام الشرع، ففيه: أنه لا يقبل قول الإنسان فيما يدعيه بمجرد دعواه، بل يحتاج إلى بينة، أو تصديق المدعى عليه،ج: 7،ص: 250 ۔)
و فی کنز العمال : عن علي قال: البهتان على البراء أثقل من السموات. الحكيم ؛ ج 3 ص 8810 ۔)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0