احکام نماز

بار بار وضوء ٹوٹنے والے شخص کے لئے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
90522
| تاریخ :
2026-01-03
عبادات / نماز / احکام نماز

بار بار وضوء ٹوٹنے والے شخص کے لئے نماز کا حکم

میرا وضوء بہت ٹوٹتا ہے ہر نماز کے لئے کم سے کم تین، چار مرتبہ وضوء کرنے کی نوبت پیش آتی ہے، اس کا علاج بھی کروایا ہے مگر فرق نہیں پڑھ رہا ، تو مجھے ہر نماز کے لئے تین، چار مرتبہ ہی وضوء کرنا ہوگا یا اس کی کوئی گنجائش ہے ؟ کیونکہ اس کی وجہ سے بہت نمازیں میری قضاء بھی ہورہی ہے ، برائے مہربانی تفصیل میں جواب دیں ، شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اپنے عذر کی تفصیل بیان نہیں کی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم وہ معذور کہ جس کو شرعاًنماز کے سلسلہ میں تخفیف اور آسانی دی جاتی ہے اس کی پوری تفصیل بیان کردی جاتی ہےپھر سائل اپنی کیفیت دیکھ لے اگراس کے مطابق ہے تو اس تفصیل کے مطابق عمل کر کےاس تخفیف اور آسانی سے فائدہ اٹھائے ورنہ وضوء ٹوٹنے پر نیا وضوء کرنا لازم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کو یہ عذر اگر اس قدر تسلسل سے در پیش ہو کہ اس تسلسل کی وجہ سےاسے نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ فقط وقتیہ فرض اداء کر سکے تو اس صورت میں سائل شرعاًمعذور کہلائے گا ،چنانچہ سائل ہر فرض نماز کیلئے ایک دفعہ وضو ء کرلیا کرے اور اس وضوء سے وقت کے اندر جتنی نمازیں وغیرہ پڑھنا چاہے ،پڑھ سکتا ہے،اس دوران مذکور عذر کی وجہ سے اس کا وضوء نہیں ٹوٹےگا، البتہ وقت ختم ہوتے ہی اس کا وضوء ٹوٹ جائے گا اور اگلی نماز کا وقت داخل ہونےپر نیا وضوء کرنا لازم ہو گا،اس کے بعد اگر کسی بھی نماز کے پورے وقت میں ایک دفعہ بھی یہ عذر نہ پایاجائے تو سائل معذور نہیں رہے گا اور یہ حکم بھی باقی نہ رہے گا،لہذا اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل. (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبهونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) (ج:1،ص:305،مط:سعیدکراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90522کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات