احکام نماز

نماز کی نیت کیسے کی جائے؟

فتوی نمبر :
90530
| تاریخ :
2026-01-03
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز کی نیت کیسے کی جائے؟

محترم مفتیانِ کرام!
براہِ کرم نماز کی نیت کے حوالے سے درج ذیل امور میں رہنمائی فرمائیں:

1. نماز کی نیت کس طرح کی جائے؟
2. کیا نیت زبان سے ادا کرنا ضروری ہے یا دل میں ارادہ کرنا ہی کافی ہے؟
3. اگر نیت زبان یا دل سے کی جائے تو کیا صرف اتنا کہنا درست ہے کہ:
“میں نیت کرتا ہوں فلاں وقت کی اتنی رکعت نماز (فرض / سنتِ مؤکدہ / نفل) خاص اللہ تعالیٰ کے لیے، رخ بیت اللہ شریف، ادا یا قضا”؟
4. فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں نیت کے الفاظ کیا ہوں اور کتنے الفاظ کہنا کافی ہیں؟
5. نمازِ جمعہ کے بارے میں وضاحت فرمائیں کہ:
پہلی چار رکعت سنتِ مؤکدہ کی نیت میں، اور دو رکعت فرضِ جمعہ کی نیت میں، جمعہ کے بعد ادا کی جانے والی سنتوں کی نیت میں وقت ظہر کہا جائے گا یا جمعہ؟

براہِ کرم ان تمام نکات پر واضح مدلل رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نماز کی نیت کی صحت کےلیے زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ،بلکہ دل میں نماز کی ادائیگی کا قصد وارادہ ہی کافی ہوتاہے،جبکہ فرض نمازوں میں اکیلےنماز پڑھنے والے کے لیے صرف دل سے یہ ارادہ کرلینا کافی ہےکہ میں فلاں وقت کی فرض نماز ( فجر،ظہر، عصر،مغرب،عشاء) ادا کر رہا ہوں (تعدادِ رکعات اور قبلہ رخ ہونے کی نیت لازم نہیں)،اورفرائض کوجماعت کےساتھ پڑھنے والے کے لیے مذکورہ نیت کے ساتھ یہ بھی اضافہ کرنا ضروری ہےکہ میں اس امام کی اقتدا میں نماز پڑھ رہا ہوں، اور باقی سننِ مؤکدہ میں صرف یہ نیت کافی ہے کہ میں اتنی رکعت سنت نماز پڑھ رہا ہوں(وقت اور تعدادکےتعیین کے بغیر بھی سنتیں ادا ہوجاتی ہیں) دیگر تمام سنتیں اور نوافل کا بھی یہی حکم ہے، اسی طرح جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے یا بعد والی سنتیں بھی مطلق نیت سے اداہوجاتی ہیں،البتہ اگر کوئی نیت کرتے ہوئے زبان سے الفاظ دہرانا چاہے تو اس طرح کرےکہ میں جمعہ سے پہلے یا بعد کی اتنی رکعت سنت اداکرہاہوں،جبکہ فوت شدہ فرائض کو قضا پڑھتے وقت اس کی مکمل تعیین کرنا ضروری ہے(یعنی فلاں دن کی فلاں نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں) اور اگرتعیین کرنا مشکل ہو تو اس طرح نیت کی جاسکتی ہے کہ جتنی مغرب کی نمازیں قضاہوئی ہیں ان میں سے پہلی مغرب کی نماز قضا پڑھ رہا ہوں ،یا آخری مغرب کی نماز قضا پڑھ رہا ہوں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكفيه اللسان مجتبى (وهو) أي عمل القلب (أن يعلم) عند الإرادة (بداهة) بلا تأمل (أي صلاة يصلي) فلو لم يعلم إلا بتأمل لم يجز.(والتلفظ) عند الإرادة (بها مستحب) هو المختار اھ(كتاب الصلوة، باب شروط الصلوة، ج:1، ص:415، ط:سعيد)
وفی الفتاوى الهندية: النية إرادة الدخول في الصلاة و الشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي و أدناها ما لو سئل لأمكنه أن يجيب على البديهة وإن لم يقدر على أن يجيب إلا بتأمل لم تجز صلاته ولا عبرة للذكر باللسان فإن فعله لتجتمع عزيمة قلبه فهو حسن كذا في الكافي اھ(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:56،ط:ماجدیۃ)
وفیها أیضاً: ويكفيه مطلق النية للنفل والسنة والتراويح هو الصحيح. كذا في التبيين (إلی قوله) الواجبات والفرائض لا تتأدى بمطلق النية إجماعا.اھ (کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:56،ط:ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس و الجمعة و السبت فإذا قضاها لا بدّ من التعيين؛ لأنّ فجر الخميس مثلًا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلًا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولًا أو يقول: آخر فجر، فإنّ ما قبله يصير آخرًا، و لايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت. وقيل: لايلزمه التعيين أيضًا كما في صوم أيام من رمضان واحد، ومشى عليه المصنف في مسائل شتى آخر الكتاب تبعًا للكنز وصححه القهستاني عن المنية، لكن استشكله في الأشباه و قال: إنه مخالف لما ذكره أصحابنا كقاضي خان وغيره والأصح الاشتراط اهـ(کتاب الصلوۃ،باب قضاء الفوائت،ج:2،ص:76،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90530کی تصدیق کریں
0     180
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات