میں ریئل اسٹیٹ ایجنٹ بننا چاہتا ہوں، لیکن مجھے کچھ شرعی مسائل کے بارے میں الجھن ہے اور میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ معاملات حلال ہیں یا حرام۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ریئل اسٹیٹ میں بعض پراپرٹیز مورگیج (بینک قرض) کے ذریعے فروخت کی جاتی ہیں۔ بطور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ میں خود مورگیج یا سود کے عمل میں شامل نہیں ہوتا، لیکن خریدار بینک کے ذریعے مورگیج پر پراپرٹی خریدنا چاہتا ہے۔ اس صورت میں میرا صرف پراپرٹی کی خرید و فروخت کرانا ہوتا ہے۔ کیا ایسے سودی مورگیج والے معاملے میں بطور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ شامل ہونا حلال ہے یا حرام؟
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک پراپرٹی یا اپارٹمنٹ جو ابھی زیرِ تعمیر ہے، مثال کے طور پر اس کی قیمت 20 لاکھ درہم رکھی گئی۔ ایک شخص یہ اپارٹمنٹ خرید لیتا ہے، حالانکہ اپارٹمنٹ ابھی مکمل طور پر تعمیر نہیں ہوا۔ بعد میں وہی شخص اسی زیرِ تعمیر اپارٹمنٹ کو 30 لاکھ درہم میں کسی اور فرد کو فروخت کر دیتا ہے۔ اس صورت میں، جبکہ اپارٹمنٹ ابھی مکمل نہیں ہوا، کیا بطور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ ایسی خرید و فروخت میں شامل ہونا حلال ہے یا حرام؟
اسی طرح، ایسے معاملات میں شامل ہونا جہاں خریدار پراپرٹی مورگیج کے ذریعے خریدنا چاہتا ہو، بطور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
کچھ ڈیویلپرز عمارت یا اپارٹمنٹس تعمیر کرتے ہیں اور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے وہ پراپرٹی فروخت کی جاتی ہے، حالانکہ وہ پراپرٹی ابھی تک بنی نہیں ہوتی۔ کیا اس طرح کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کے لیے شرعی طور پر کیا اصول اور قواعد ہیں، تاکہ میں حلال طریقے سے اس پیشے میں کام کر سکوں۔
کسی خریدار کے لیے بینک کے ذریعے مورگیج پر پراپرٹی خریدنا، جس میں سودی معاملہ کیا جاتا ہے، بلا شبہ ناجائز اور حرام ہے جس سے اجتناب لازم ہے؛ البتہ اگر سائل خود مورگیج اور سود کے عمل میں براہِ راست یا سببِ قریب کے درجے میں شامل نہ ہو، بلکہ سائل کا کام مکان خریدنے والے کو مکان بیچنا ہو تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
2۔ اگر کوئی شخص زیرِ تعمیر پراپرٹی یا اپارٹمنٹ کو خرید کر اپنے قبضے میں لے آتا ہے، اس کے بعد وہ اسی حالت میں یا اس میں مزید کچھ تعمیراتی کام کر کے زیادہ قیمت پر کسی تیسرے شخص کو فروخت کر لیتا ہے تو شرعاً ایسا کرنا جائز اور درست ہے، اور اس صورت میں سائل کا بطور رئیل اسٹیٹ ایجنٹ خرید و فروخت کے اس معاملے میں واسطہ بننا اور اس پر اجرت وصول کرنا بھی جائز اور درست ہوگا؛ لیکن اگر یہ معاملہ زیرِ تعمیر پورے اپارٹمنٹ اور پراپرٹی کی خرید و فروخت کا نہ ہو، بلکہ کسی بننے والی بلڈنگ اور پلازے وغیرہ میں مکانات اور آفس وغیرہ کی بکنگ کے بعد ان کی تعمیر مکمل ہونے اور اس پر باقاعدہ قبضہ کرنے سے قبل فروخت کرنے کے متعلق ہو تو پھر حکم یہ نہ ہوگا۔
3۔ رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کے تمام اصول و ضوابط کو لکھنا تو ممکن نہیں، تاہم سائل کو جو مسئلہ درپیش ہو اس کے لیے کسی مستند عالمِ دین یا دار الافتاء سے رجوع کر کے حکمِ شرعی معلوم کیا کرے۔ اس حوالے سے ”رئیل اسٹیٹ: احکام و مسائل“ مؤلفہ مفتی ابو بکر جابر قاسمی و مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی کا مطالعہ بھی مفید ہوگا۔
کما فی مرقاة المفاتیح :- عن جابر - رضي الله عنه - قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: (هم سواء) رواه مسلم.اھ(باب الربا ،ج:۵،ص1915،ح:۲۸۰۷، ط:دار الفکر)
و فی فتح القدیر: (قوله وإن استصنع شيئا من ذلك بغير أجل جاز استحسانا) الاستصناع طلب الصنعة وهو أن يقول لصانع خف أو مكعب أو أواني الصفر اصنع لي خفا طوله كذا وسعته كذا أو دستا: أي برمة تسع كذا وزنها كذا على هيئة كذا بكذا ويعطي الثمن المسمى أو لا يعطي شيئا فيعقد الآخر معه جاز استحسانا تبعا للعين. والقياس أن لا يجوز وهو قول زفر والشافعي، إذ لا يمكن إجارة لأنه استئجار على العمل في ملك الأجير، وذلك لا يجوز.اھ(باب السلم ،ج:۷،ص:۱۱۴، ط:دار الفکر)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق قوله (وصح السلم والاستصناع في نحو خف وطست) أما السلم فلإمكان ضبط الصفة ومعرفة المقدار فكان سلما باستجماع شرائطه، وأما الاستصناع فالكلام فيه في مواضع الأول في معناه لغة فهو طلب الصنعة وفي القاموس الصناعة ككتابة حرفة الصانع وعمله الصنعة. اهـ.(باب السلم والاستصناع في نحو خف وطست ،ج:۶،ص؛۱۸۵،ط:دار الکتاب الاسلامی)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0