اگر کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اس کے منہ سے سگریٹ کی اتنی بدبو آ رہی ہو کہ اس کے پہلو میں کھڑا نمازی بھی اسے محسوس کر سکے، تو ایسی صورت میں:کیا اس شخص کی نماز مکروہ قرار پائے گی؟یا اس بدبو کی وجہ سے نماز کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی دلائل کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں!
اگر کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اس کے منہ سے سگریٹ کی ایسی ناگوار بو آ رہی ہو، جو اس کے پہلو میں کھڑے نمازیوں کو محسوس ہو ،اور ان کے لیے اذیت کا باعث بنے، تو ایسی صورت میں اگرچہ شرعا اس کی نماز ہو جائے گی، البتہ ایسی حالت میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے ،لہذا ایسے شخص پر لازم ہے کہ نماز سے قبل کلی یا مسواک کے ذریعے منہ کی بو کو زائل کرے ،تاکہ دیگر نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔
کما فی صحیح مسلم :(من أكل ثومًا أو بصلًا فليعتزل مسجدنا وليقعد في بيته؛ فإن الملائكة تتأذى مما يتاذى منه بنو آدم". (باب نهي من أكل ثومًا أو بصلًا...الخ :564)
وفی حاشية رد المحتار على الدر المختار : "(قوله وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد. قال الإمام العيني في شرحه على صحيح البخاري قلت: علة النهي أذى الملائكة وأذى المسلمين ولا يختص بمسجده - عليه الصلاة والسلام -، بل الكل سواء لرواية مساجدنا بالجمع، خلافا لمن شذ ويلحق بما نص عليه في الحديث كل ما له رائحة كريهة مأكولا أو غيره، وإنما خص الثوم هنا بالذكر وفي غيره أيضا بالبصل والكراث لكثرة أكلهم لها اھ (کتاب الصلوۃ ، جلد 1 ص : 661 ط : دارالفکر)