السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،
محترم! ہمارے دیار کے ایک بڑے مدرسہ سے میں منسلک ہوں، آپ حضرات سے ایک مسئلہ پوچھنا ہے، جس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے،
مسئلہ یہ ہے کہ اتنے دن تو نماز سے پہلے موذن صاحب کہتے تھے کہ بھائی صف سیدھا کریں، اس کے بعد لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر مؤذن صاحب نماز کے لیے اقامت کہتے تھے، مگر اتفاق سے کچھ دن پہلے سے معاملہ یہ ہو رہا ہے کہ وقت ہونے کے ساتھ ساتھ مؤذن صاحب کھڑےہو کے اقامت کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔ بعض وقت ایسا بھی اتفاق ہوتا ہے کہ امام صاحب پیچھے سے سامنے جانے کے اندر ہی میں اقامت کی جاتی ہے،اور امام اقامت کےاخیر میں پہنچ جاتے ہیں۔
محترم سے جاننا چاہتا ہوں کہ پہلی صورت اور اس نئی صورت میں سےکون سی صورت صحیح ہے؟ براہ کرم مفصل جواب سے ممنون فرمائیں، تاکہ ہمارے علماء کا اختلاف دور ہو جائے، صحیح حکم کے دلائل اور مقابل حکم کے جوابات بھی درج ہو تو بہت ممنون ہونگے،
ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں،
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ،
واضح ہوکہ اقامت کا مقصد جماعت کے لیے صفوں کی تیاری اور امام و مقتدیوں کو نماز کے آغاز کے لیے متنبہ کرنا ہے، لہذااقامت میں سنت کے قریب ترطریقہ یہ ہے کہ جب امام مصلے پر موجود ہو یا قریب ہو اور صفیں درست ہو چکی ہوں تو اس کے بعد اقامت شروع کی جائے ،تاکہ نماز باوقار اور منظم انداز میں قائم ہو۔
لہٰذا پہلی صورت جس میں مؤذن صفیں سیدھی کروانے اور امام کی موجودگی یا تیاری کے بعد اقامت کہتا ہے، یہ طریقہ درست، منضبط اور سنت کےقریب ترہونے کی وجہ سےراجح ہے، اس کے برعکس یہ طریقہ کہ مؤذن محض جماعت کا وقت ہوجانے پر کھڑے ہو کر اقامت شروع کر دے، جبکہ امام ابھی راستے میں ہو یا صفیں مکمل طور پر تیار نہ ہوں، اگرچہ اس کی بھی گنجائش ہے،لیکن اس سے نظمِ جماعت میں خلل پڑنے کاقوی امکان ہے ،اس وجہ سے خلافِ اولیٰ ہے،چنانچہ وقت ِاقامت میں پہلے طریقہ پرعمل کااہتمام چاہیے ۔
کما روی الترمذی بسندہ :عن جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: «كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ»، حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ.(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:242،رقم الحدیث:202،)
وفیہ ایضاً: وروي عن عمرؓ أنہ کان یوکل رجالا بإقامۃ الصفوف ولایکبر حتی یخبر أن الصفوف قد استوت(باب الصلاۃ، باب ماجاء في إقامۃ الصفوف،ج:1،ص:37،ط: دارالسلام ،رقم:۲۲۷)
و فیہ ایضاً: روي عن عليؓ، وعثمانؓ أنہما کانا یتعاہدان ذلک ویقولان استووا۔ ( کتاب الصلاۃ، باب ماجاء في إقامۃ الصفوف، ج:1،ص:53، دارالسلام رقم: ۲۲۷)
و فی الصحیح لمسلم: وعن أبي ھریرۃؓ إن الصلاۃ کانت تقام لرسول الله صلی الله علیہ وسلم، فیأخذ الناس مصافہم، قبل أن یقوم النبي صلی الله علیہ وسلم مقامہ(کتاب الصلاۃ، باب متی یقوم الناس للصلوۃ، ج:1،ص:220،ط:بیت الافکار،رقم الحدیث:605)
وفی فتح الباري لابن حجر: رواه عبد الرزاق عن بن جريج عن بن شهاب أن الناس كانوا ساعة يقول المؤذن الله أكبر يقومون إلى الصلاة فلا يأتي النبي صلى الله عليه وسلم مقامه حتى تعتدل الصفوف اھ (2/ 120)۔