ہمارے یہاں انڈیا میں ہینڈی پلس ملتا ہے جو انگلی وغیرہ کٹ جانے پر لگایا جاتا ہے تو کیاہینڈی پلس لگاکر وضو کرنا کیسا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں انگلی وغیرہ کے کٹ جانے کی صورت میں جو ہینڈی پلس زخم پر لگایا جاتا ہے ، اگر وضوء کرتے وقت مذکورہ (ہینڈی پلس ) پٹی ہٹاکر اس جگہ کو دھونا زخم کے لیے نقصان دہ نہ ہو تو ہنڈی پلس ہٹا کر اس جگہ کودھونا ضروری ہے، اور اگر اس زخم کا دھونا نقصان دہ ہو لیکن اس سے ہینڈی پلس ہٹاکر اس پر براہِ راست مسح کیا جاسکتا ہو تو اس پر مسح کیا جائے، اور اگر اس جگہ پر براہِ راست مسح کرنا بھی نقصان دہ ہو تو پٹی کے اوپر مسح کیا جائے، ایسی صورت میں وضوء ہوجائے گا۔
تاہم یہ بھی واضح رہے کہ ان تمام صورتوں میں نقصان سے مراد ایسا نقصان ہے جس سے زخم کے ٹھیک ہونے میں تاخیر ہو اور وہ معتدبہ نقصان ہو، معمولی تکلیف یا خیالی نقصان کا اعتبار نہ ہوگا۔
کما فی الدر: (وحكم مسح جبيرة) هي عيدان يجبر بها الكسر (وخرقة قرحة وموضع فصد) وكي (ونحو ذلك) كعصابة جراحة ولو برأسه، (كغسل لما تحتها) فيكون فرضا يعني عمليا لثبوته بظني، وهذا قولهما، وإليه رجع الإمام خلاصة وعليه الفتوى شرح مجمع. وقدمنا أن لفظ الفتوى آكد في التصحيح من المختار والأصح والصحيح. ثم إنه يخالف مسح الخف من وجوه ذكر منها ثلاثة عشر، فقال (فلا يتوقف) ؛ لأنه كالغسل حتى يؤم الأصحاء، ولو بدلها بأخرى أو سقطت العليا لم يجب إعادة المسح بل يندب (ويجمع) مسح جبيرة رجل (معه) أي مع غسل الأخرى لا مسح خفها بل خفيه. (ويجوز) أي يصح مسحها (ولو شدت بلا وضوء) وغسل دفعا للحرج (ويترك) المسح كالغسل (إن ضر وإلا لا) يترك (وهو) أي مسحها (مشروط بالعجز عن مسح) نفس الموضع (فإن قدر عليه فلا مسح) عليها. والحاصل لزوم غسل المحل ولو بماء حار، فإن ضر مسحه، فإن ضر مسحها، فإن ضر سقط أصلا الخ۔ ( مطلب نواقض المسح، ج: 1، ص: 278، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: وهو ليس بفرض بل واجب عند أبي حنيفة رحمه الله وهو الصحيح. هكذا في محيط السرخسي والبحر الرائق وإنما يمسح إذا لم يقدر على غسل ما تحتها ومسحه بأن تضرر بإصابة الماء أو حلها. هكذا في شرح الوقاية ومن ضرر الحل أن يكون في مكان لا يقدر على ربطها بنفسه ولا يجد من يربطها. كذا في فتح القدير الخ۔ (الفصل الثاني في نواقض المسح، ج: 1، ص: 35، ط: ماجدیۃ)۔