احکام نماز

سورج طلوع ہونے سے لے کر ظہر تک کس نماز کا وقت ہے؟

فتوی نمبر :
90916
| تاریخ :
2026-01-14
عبادات / نماز / احکام نماز

سورج طلوع ہونے سے لے کر ظہر تک کس نماز کا وقت ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرا سوال یہ ہے کہ سورج نکلنے کے بعد سے لے کر ظہر کی نماز شروع ہونے تک یہ جو بیچ کا وقت ہے، یہ کون سی نماز کا ہے؟ کیا یہ فجر کی نماز کا وقت نہیں ہے ؟اگر نہیں ہے تو فقہا پھر کیوں کہتے ہیں کہ اگر کسی کی جماعت کے ساتھ فجر چھوٹ جائے اور وہ سورج نکلنے کے بعد نماز فجر ادا کرے تو سنتیں بھی ادا کرے ، حالانکہ سنتوں کی قضا تو نہیں ہوتی تو بتائیے کہ یہ کون سا وقت ہوتا ہے سورج نکلنے کے بعد سے لے کر کے ظہر کی نماز شروع ہونے تک جو بیچ کا وقت ہے یہ کون سا وقت ہے ؟ براہ مہربانی یہ وضاحت فرما دیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نمازِ فجر کا وقت طلوعِ صبح صادق سے شروع ہو کر طلوعِ آفتاب تک رہتا ہے۔ سورج طلوع ہوتے ہی فجر کا وقت ختم ہوجاتاہے۔ باقی فقہاءِ کرام نے جو یہ فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص سےنماز فجروقت پرادانہ ہوسکےاور وہ اسی دن اس کی قضاء سورج طلوع ہونے کے بعد زوال سے پہلے کرے تو سنتوں کی ادائیگی کابھی ساتھ اہتمام کرے ، یہ اس لیے نہیں کہ فجرکی سنتوں کی بھی قضاءلازم ہےاوریہ مستقل لازمی حکم کے طورپرادا کی جائیں، بلکہ مذکورحکم فجر کی سنتوں کی اہمیت کے پیش نظرفرائض کے ذیل میں تابع ہونے کی حیثیت سے محض ترغیبی طور پر دیاجاتاہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح) لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل، بخلاف القياس فغيره عليه لا يقاس
وفي رد المحتار تحت (قوله ولا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعا لقضائه لو قبل الزوال؛ وما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع، لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر. قيل هذا قريب من الاتفاق لأن قوله أحب إلي دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه. وقالا: لا يقضي، وإن قضى فلا بأس به، كذا في الخبازية؛ ومنهم من حقق الخلاف وقال الخلاف في أنه لو قضى كان نفلا مبتدأ أو سنة، كذا في العناية يعني نفلا عندهما سنة عنده كما ذكره في الكافي إسماعيل (قوله لقضاء فرضها) متعلق بالتبعية؛ وأشار بتقدير المضاف إلى أن التبعية في القضاء فقط، فليس المراد أنها تقضى بعده تبعا له بل تقضى قبله تبعا لقضائه.(كتاب الصلاة ، باب ادراك الفريضة، ج: ٢، ص: ٥٧، مط: سعيد)
وفي الهندية: والسنن إذا فاتت عن وقتها لم يقضها إلا ركعتي الفجر إذا فاتتا مع الفرض يقضيهما بعد طلوع الشمس إلى وقت الزوال ثم يسقط هكذا في محيط السرخسي وهو الصحيح. هكذا في البحر الرائق وإذا فاتتا بدون الفرض لا يقضى عندهما خلافا لمحمد - رحمه الله تعالى -. كذا في محيط السرخسي.(كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، ج: ١، ص: ١١٢، مط: ماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90916کی تصدیق کریں
0     53
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات