السلام علیکم مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے علاقے کی مسجد میں جو قاری صاحب تراویح پڑھاتے ہیں ان کی اوسطاً تین غلطیاں /اٹکن ہر رکعت میں ہوتی ہیں ( بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ) جس کا مطلب ہے کہ 20 رکعات میں 60 غلطیاں / اٹکن لیکن مسجد کی کمیٹی کچھ وجوہات کے تحت ان کو تبدیل نہیں کرتی جبکہ مسجد میں کچھ دوسرے پکے قاری حضرات موجود ہیں۔قاری صاحب کی ان غلطیوں کی وجہ سے تراویح پڑھنے اور قرآن سننے کا جو لطف ہے وہ حاصل نہیں ہوپاتا۔(2)دوسرا مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ رمضان المبارک میں مغرب کی اذان کے بعد جماعت 20 سے 25 منٹ بعد کھڑی ہوتی ہے، مسجد کمیٹی کے اس اقدام سے ان نمازی حضرات/مسافر وں کو جماعت کی لئے زحمت ہوتی ہے جنہیں آگے سفر کرنا ہوتا ہے تاکہ عشاء کی نماز /تراویح تک اپنی منزل تک پہنچ جائے۔شریعت کی روشنی میں مسجد کمیٹی کا یہ اقدامات کیسے ہیں ؟ دونوں مسئلوں پر جواب / فتویٰ عنایت فرمائیں ۔شکریہ
صورت مسؤلہ میں مذکور حافظ قرآن کی امامتِ تراویح پر اگر مسجد کے نمازیوں کی اکثریت کو کوئی اعتراض نہ ہو اور کراہت کی کوئی اور وجہ بھی نہ پائی جاتی ہو تو محض اٹکن یاغلطیوں کی وجہ سے ان کو امامت سے ہٹانے کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں البتہ تراویح میں روانی اور خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرنا نمازیوں کے لئے دھیان اور یکسوئی کا سبب بنتا ہے جو شرعاً بھی مطلوب ہے اس لئے اگر مذکور قاری صاحب کی منزل پختہ نہ ہو تو اسے از خود کسی پختہ منزل والے قاری صاحب کو یہ ذمہ داری سونپنی چاہئے تاکہ مذکور مسجد سے منسلک تمام نمازی خوشی سے تراویح میں شریک ہوسکیں۔ جبکہ عند الاحناف عام دنوں میں مغرب کی نماز اذان کے بعد متصل پڑھنا مستحب ہے، البتہ رمضان المبارک میں روزداروں کے جماعت میں شریک ہونے کے لئے اتنا وقت دیا جاسکتا ہے جس میں لوگ افطار کرکے جماعت میں شریک ہوسکیں لہذا سائل کے علاقائی مسجد میں رمضان المبارک کے مہینہ میں مغرب کی اذان کے بعد دس سے پندرہ منٹ کا وقفہ دیا جاسکتا ہے چنانچہ اگر مسجد سے منسلک نمازیوں کی اکثریت کی رائے سے اس قدر وقفہ تجویز کیا گیاہو تو غیر متعلقہ نمازی حضرات کی رعایت کی بناء پر مذکور وقفے کو ختم کرنا لازم نہیں تاھم اس سے زیادہ غیر ضروری وقفہ کرنا مکروہ ہے جس سے اجتناب چاہئے۔
کما فی الترمذی: عن جابر ، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لبلال:» يا بلال، إذا أذنت فترسل في أذانك، وإذا أقمت فاحدر، واجعل بين أذانك وإقامتك قدر ما يفرغ الآكل من أكله، والشارب من شربه، والمعتصر إذا دخل لقضاء حاجته، ولا تقوموا حتى تروني.(ج:1،ص:237)
وفی الدر المختار: والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الأحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة، ثم الأورع) أي الأكثر اتقاء للشبهات. والتقوى: اتقاء المحرمات(ج:1،ص:551)
وفیہ ایضاً: والختم) مرة سنة ومرتين فضيلة وثلاثا أفضل. (ولا يترك) الختم (لكسل القوم) (ج:1،ص:47، مط: سعید)
وفی حاشیۃ الطحطاوی: ويفصل بين الأذان والإقامة" لكراهة وصلها "بقدر ما يحضر" القوم "الملازمون للصلاة" للأمر به "مع مراعاة الوقت المستحب و" يفصل بينهما "في المغرب بسكتة" هي "قدر ثلاث آيات قصار" أو آية طويلة "أو" قدر "ثلاث خطوات" أو أربع "ويثوب" بعد الأذان في جميع الأوقات لظهور التواني في الأمور الدينية في الأصح وتثويب كل بلد بحسب ما تعارفه أهلها "كقوله" أي المؤذن "بعد الأذان الصلاة
ــ.
مرتفع للأذان يؤذن في فناء المسجد كما في الفتح قوله: "ويفصل بين الأذان والإقامة" لقوله صلى الله عليه وسلم لبلال: "اجعل بين أذانك وإقامتك نفسا حتى يقضي المتوضيء حاجته في مهل" وحتى يفرغ الآكل من أكل طعامه في مهل اهـ والنفس بفتحتين واحد الأنفاس وهو ما يخرج من الحي حال التنفس ولأن المقصود بالأذان إعلام الناس بدخول الوقت ليتهيؤا للصلاة بالطهارة فيحضروا المسجد وبالوصل ينتفي هذا المقصود قوله: "لكراهة وصلهما" في كل صلاة إجماعا قوله: "بقدر ما يحضر الملازمون" إلا إذا علم بضعيف مستعجل فإنه ينتظره ولا ينتظر رئيس المحلة كما في الفتح وما في المبتغى أن تأخير الإقامة وتطويل القراءة لإدراك بعض الناس حرام جدا معناه إذا كان لأجل الدنيا تأخيرا وتطويلا يشق على الناس لأنه إهانة لأحكام الشرع والحاصل أن التأخير اليسير للإعانة على الخير غير مكروه ولا بأس أن ينتظر الإمام إنتظارا وسطا كما في المضمرات قوله: "مع مراعاة الوقت المستحب" فلا يجوز التأخير عنه إلى المكروه مطلقا (ص:198)