ہر فقہ کی رو سے قضاء نمازوں کے حوالے سے کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ نماز قضاء ہوجانے کے بعد تمام فقہاء کے ہاں اس کی قضاء لازم ہے زندگی میں قضاء پڑھے بغیر اس کی تلافی ممکن نہیں، البتہ اگر سائل کو کسی خاص نوعیت کے متعلق اشکال ہو تو اس کی مکمل تفصیل کی وضاحت کرتے ہوئے سوال دوبارہ ارسال کردیں ، اس میں غور و فکر کے بعد ان شاءاللہ حکم شرعی سے بھی آگاۃ کیا جاسکتا ہے ۔
کما فی الدر المختار : ( و قضاء الفرض والواجب والسنۃ فرض و واجب و سنۃ )
وفیہ ایضا : ( الترتیب بین الفروض الخمسۃ والوتر اداء و قضاء لازم )
( باب قضاء الفوات ، ج : 2 ، ص : 65 ، ط : سعید )
و فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : یجب القضاء بترک الصلاۃ عمدا او لنوم او لسھو ولو شکا ( المبحث الثانی : قضاء الفوائت ، ج : 2 ، ص : 1147 ، ط : مکتبہ رشیدیۃ )
وفیہ ایضا : ویجب ان یکون القضاء فورا باتفاق الفقھاء (المبحث الثانی : قضاء الفوائت ، ج : 2 ، ص : 1147 ، ط : مکتبہ رشیدیۃ )