کیا فرماتے ہیں مفتیان صاحبان اس مسئلہ کے بارے میں کہ شریعت مطہرہ میں لڑکے اور لڑکی کی حد بلوغت کیا ہے؟ سال کے تعین کیساتھ دلائل کی روشنی میں وضاحت فرما کر ہمیں شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
اگر پندرہ سال سے قبل کی عمر میں علامات بلوغ مثلاً لڑکے کو احتلام اور لڑکی کو حیض وغیرہ جاری ہو کر بلوغ کا پتہ چل جائے ، چاہے وہ پندرہ سال کی عمر سے کم کیوں نہ ہو یہ دونوں بالغ شمار ہوں گے، (لبتہ لڑکی کی عمرکم از کم نو سال اور لڑکے کی بارہ سال ہو )،ورنہ شرعا پندرہ سال پر وہ بالغ کہلائیں گے۔
کما في الفتاوى الهندية: حد البلوغ بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل كذا في المختار والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى وهو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى وعليه الفتوى (إلی قوله) وأدنى مدة البلوغ بالاحتلام ونحوه في حق الغلام اثنتا عشرة سنة و في الجارية تسع سنين اھ (5/ 61) واللہ اعلم بالصواب
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0