احکام نماز

مرحوم کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
91203
| تاریخ :
2026-01-20
عبادات / نماز / احکام نماز

مرحوم کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کا حکم

ایک نوجوان فوت ہواجس کی عمر تقریبا 25سال اسکا عمر تھی وہ نماز پابندی سے نہیں پڑھتاتھا اب اسکے گھروالے اندازے سےاسکے نمازوں کافدیہ ادا کرنا چاہتےہے کیا یہ ٹھیک ہے ؟اور اگر ٹھیک ہے تو ادائیگی کا طریقہ ذرا سمجھا دیں؟جزاکم اللہ خیرا !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر مرحوم کے ذمہ قضا ءنمازیں باقی ہوں اور اس نے قضاء نمازوں کے فدیہ ادا کرنے کی وصیت بھی کی ہو تو اس کے ایک تہائی ترکہ کے بقدر اس کی وصیت پوری کرنا ورثاء پر لازم ہے اور اگر اس نے وصیت نہ کی ہو تو ورثاء پر اگرچہ اس کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہے ، لیکن اگر ورثاء اپنی مرضی سے اس کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیں توادا کرسکتے ہیں جس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر ( جس کی مقدار دو کلو گندم کی مارکیٹ ریٹ کے بقدر بنتی ہے ) کے برابر ہے ، جبکہ قضاء نمازوں میں وتر کی نماز بھی شامل ہوگی، لہذا ایک دن کی چھ نمازوں کے فدیہ کی رقم دینا ضروری ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (‌ولو ‌مات ‌وعليه ‌صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطى (من ثلث ماله)
و فی رد المختار تحت (قوله يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد.
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة كما إذا لم يوص بفدية الصوم فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى. اھ ( باب قضاء الفوائت ، ج : 2 ،ص: 72 ، ط : سعید )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91203کی تصدیق کریں
0     96
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات