مجھے گیس کے بے اختیار خارج ہونے کا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے مجھے ایک نماز کے دوران اوسطاً تین سے چار مرتبہ وضو اور نماز دوبارہ کرنی پڑتی ہے تاکہ میں صحیح طرح نماز ادا کر سکوں، اس کی وجہ سے میں اکثر نماز باجماعت سے محروم ہو جاتا ہوں، کیونکہ میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے اور مجھے بار بار نماز چھوڑ کر جانا پڑتا ہے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے میں معذور کے حکم میں نہیں آتا، کیونکہ میرا مسئلہ اس درجے تک نہیں پہنچتا کہ پورے وقتِ نماز میں بغیر وضو کے نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو۔ اس کے باوجود یہ مسئلہ میرے لیے شدید مشقت اور پریشانی کا باعث بن رہا ہے،میں نے اپنے ملک کے بہترین ڈاکٹروں سے علاج کروایا ہے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب میں مزید طبی علاج کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ میرے لیے مالی طور پر بہت بوجھل ہو چکا ہے،لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ مجھے بتائیں کہ کیا مجھے شرعی طور پر کوئی رخصت حاصل ہو سکتی ہے، یا کم از کم اس صورتِ حال میں مجھے کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل معذور کے حکم میں داخل نہیں ، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ باوضو ہوکر نماز ادا کرے ، جس کیلئے باجماعت نماز ترک کرنے کی بھی گنجائش ہوگی ، سائل کو نماز کے وقت میں جب وضوء برقرار رہنے کا اطمینان حاصل ہوجائے، اس وقت تنہا نماز کا اہتمام کرے ، اس عذر کی وجہ سے امید ہے کہ اسے ترک جماعت کا گناہ نہ ہوگا،اسی طرح سائل کو اس بابت زیادہ سوچنے اور وساوس میں پڑنے سے بھی احتراز لازم ہے، امید ہے کہ اس طرزِ عمل کو اختیار کرنے سے وہ عافیت میں رہے گا۔
کمافی الدرالمختار : (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة)الٰی قولہ (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل اھ۔
وفی الشامیۃ : تحت (قوله أو انفلات ریح) هو من لا یملك جمع مقعدته لاسترخاء فیها نهر(مطلب فی احکام المعذور، ج : 1، ص : 305، ط : سعید)