گاڑی میں نماز کا حکم کیا ہے,؟
واضح ہوکہ بلاعذر گاڑی میں فرض نماز ادا کرنا شرعا جائز نہیں ،کیونکہ فرض نماز کےلئے قیام ( کھڑا ہونا) قبلہ رخ ہونا اور اطمینان کے ساتھ رکوع وسجود کرنا ضروری ہے،اور یہ امور عموماً چلتی گاڑی میں درست طورپر ادانہیں ہوپاتے ،لہذا جب بھی ممکن ہو، گاڑی روک کر زمین پر قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کی جائے ، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو ، مثلاً وقت ختم ہونے کا اندیشہ ہو اور گاڑی روکنا ممکن نہ ہو ، اور نماز کے قضاء ہونے کا اندیشہ ہو اور گاڑی میں قبلہ رخ ہوکر قیام کے ساتھ نماز ادا نہ کی جاسکتی ہو تو ایسی صورت میں گاڑی کی سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھ لے، تاکہ "تشبہ بالمصلین" ہوجائے، تاہم بعد میں اس نماز کو لوٹانا ضروری ہوگا۔ (تبویب 74503)جبکہ نفل نماز میں بھی اگر چہ قبلہ کی طرف رُخ کرنا لازم ہے،تاہم سفر کے دوران سواری ( گاڑی وغیرہ ) پر جہت قبلہ کی رعایت ممکن نہ ہو تو قبلہ رخ ہوئے بغیر نفل نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ۔
کما فی الدر: (هذا) كله (في الفرض) والواجب بأنواعه وسنة الفجر بشرط إيقافها للقبلة إن أمكنه، وإلا فبقدر الإمكان لئلا يختلف بسيرها المكان(وأما في النفل فتجوز على المحمل والعجلة مطلقا) فرادى لا بجماعة إلا على دابة واحدة الخ
وفی الرد: والحاصل أن كلا من اتحاد المكان واستقبال القبلة شرط في صلاة غير النافلة عند الإمكان لا يسقط إلا بعذر، فلو أمكنه إيقافها مستقبلا فعل، ولذا نقل في شرح المنية عن الإمام الحلواني أنه لو انحرفت عن القبلة وهو في الصلاة لا تجوز صلاته. قال: وينبغي أن يكون الانحراف مقدار ركن الخ(کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،ج2،ص42،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیة: ومن أراد أن يصلي في سفينة تطوعا أو فريضة فعليه أن يستقبل القبلة ولا يجوز له أن يصلي حيثما كان وجهه. كذا في الخلاصة حتى لو دارت السفينة وهو يصلي توجه إلى القبلة حيث دارت. كذا في شرح منية المصلي لابن أمير الحاج الخ(کتاب الصلاۃ،الفصل الثالث فی استقبال القبلة،ج1،س64،ط: ماجدیة)۔
وفی البحر الرائق: وفي الخلاصة وفتاوى قاضي خان وغيرهما الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء والصلاة يتيمم ويصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج الخ(کتاب الطھارۃ، باب التیمم،ج1،ص149،ط:دار الکتاب الاسلامی)۔