احکام نماز

جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
91792
| تاریخ :
2026-02-06
عبادات / نماز / احکام نماز

جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنا

السلام علیکم، میں بڈاپسٹ، ہنگری میں رہتا ہوں، میں آفس میں کام کرتا ہوں جہاں نماز پڑھنے اور وضو کرنے کی جگہ صحیح نہیں ہے، کام کے دوران ظہر، عصر اور مغرب کی نماز کا وقت آتا ہے، اگر میں واش روم میں جا کر وضو کروں اور پاؤں دھونے کے بجائے موزوں پر گیلا ہاتھ مار لوں تو کیا میرا وضو ہو جائے گا؟ اس کے بعد کیا میں اپنے ڈیسک پر ہی قبلہ رخ ہو کر بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ سکتا ہوں؟ مسجد میرے آفس سے 15 منٹ دور ہے، 3 دفعہ جاؤں گا تو 1.5 گھنٹے دن کے اس میں لگ جائیں گے، اس صورت حال میں کیا کرنا چاہیے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ وضو میں پاؤں دھونا فرض ہے۔لیکن جہاں کسی عذرکی بناءپر براہِ راست پانی سےپاؤں دھونا ممکن نہ ہو تو شرع نےمقیم کے لیےایک دن اورایک رات اورمسافرکے حق میں تین دن تین رات تک حالت وضوءمیں پہنےگئےچمڑےکےموزوں پرمسح کرنےکی رخصت دی ہے(عام مروجہ سوتی و اونی موزےاس رخصت میں شامل نہیں ہیں )چنانچہ سائل کو اگردوران ڈیوٹی پاؤں دھونے میں مشکل کاسامناہوتووہ چمڑے کے موزے استعمال کرکے اس رخصت سے مستفیدہوسکتاہے ۔جہاں تک مسجددورہونے کی وجہ سے آفس میں ہی نمازاداکرنے کامعاملہ ہے توشرعاًاس کی گنجائش ہے، تاہم چونکہ نمازمیں قیام فرض ہے، اس لیے صحت والی حالت میں قیام چھوڑکرڈیسک پربیٹھےبیٹھےقبلہ رخ ہوکرنمازپڑھنے سے نمازادانہ ہوگی، لہذاسائل کو آفس میں ہی مناسب جگہ پرقیام ،رکوع وسجود کےساتھ نماز ادا کرنا شرعی طور پر لازم وضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (شرط مسحه) ثلاثة أمور: الأول (كونه ساتر) محل فرض الغسل (القدم مع الكعب) (إلی قولہ) (و) الثاني (كونه مشغولا بالرجل) ليمنع سراية الحدث، فلو واسعا فمسح على الزائد ولم يقدم قدمه إليه لم يجز ولا يضر رؤية رجله من أعلاه (و) الثالث (كونه مما يمكن متابعة المشي) المعتاد (فيه) فرسخا فأكثر،الخ (کتاب الطھارۃ، ‌‌باب المسح على الخفين،ج1،ص261-263،ط:ایچ ایم سعید)-
وفی الھندیۃ: إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد، هكذا في الهداية وأصح الأقاويل في تفسير العجز أن يلحقه بالقيام ضرر وعليه الفتوى، كذا في معراج الدراية، وكذلك إذا خاف زيادة المرض أو إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس، كذا في التبيين أو يجد وجعا لذلك فإن لحقه نوع مشقة لم يجز ترك ذلك القيام، كذا في الكافي،(إلی قولہ) وإن عجز عن القيام والركوع والسجود وقدر على القعود يصلي قاعدا بإيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع، كذا في فتاوى قاضي خان حتى لو سوى لم يصح، كذا في البحر الرائق،الخ (کتاب الصلاۃ، الباب الرابع عشر في صلاة المريض،ج1،ص136،ط:مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الھندیۃ: الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وفي المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة وفي البدائع تجب على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج، وإذا فاتته الجماعة لا يجب عليه الطلب في مسجد آخر بلا خلاف بين أصحابنا،الخ (کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامة،الفصل الأول في الجماعة،ج1،ص82،ط:مکتبۃ ماجدیۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91792کی تصدیق کریں
0     170
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات