احکام نماز

پیشاب کے قطرے آنے والا مریض نماز کیسے پڑھے؟

فتوی نمبر :
92254
| تاریخ :
2026-02-16
عبادات / نماز / احکام نماز

پیشاب کے قطرے آنے والا مریض نماز کیسے پڑھے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، محترم مفتی صاحب !ایک مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے: مجھے پیشاب کے قطروں کا مسئلہ ہے۔ مسلسل قطرے نہیں آتے، لیکن تقریباً ہر دس منٹ بعد عضو کے اوپر تری ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ کیفیت پیشاب کے بعد نہیں ، بلکہ عام حالت میں رہتی ہے۔ میں احتیاط کے طور پر عضو کو ہلکا سا باندھ لیتا ہوں اور نوک پر ٹشو رکھ لیتا ہوں، تاکہ تری ظاہر ہونے کا پتہ چل سکے۔ اگر تری ظاہر ہو جائے تو دوبارہ وضو کر کے نماز ادا کرتا ہوں اسی بنا پر میں عضو کو باندھ کر عصر کے وقت وضو کرتا ہوں اور جب تک تری ظاہر نہ ہو، اسی وضو سے مغرب اور عشاء کی نماز بھی ادا کر لیتا ہوں۔ تاہم عشاء کے بعد جب پٹی کھولتا ہوں تو ایک قطرہ باہر نکل آتا ہے، جو غالباً دو یا ڈھائی گھنٹے میں تری جمع ہونے کی وجہ سے بنتا ہے۔ میں نے یہ مسئلہ پڑھا ہے کہ شرعی معذور کا وضو صرف ایک نماز کے وقت تک برقرار رہتا ہے اور دوسری نماز کا وقت داخل ہوتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ میں نے کئی سال اسی طریقے کے مطابق نمازیں اور قضا نمازیں ادا کی ہیں۔ اب اس بات کی وجہ سے بہت پریشان ہوں کہ آیا ایک وضو سے پڑھی گئی ایک سے زیادہ نمازیں درست ہوئی ہیں یا نہیں؟ براہ مہربانی شرعی رہنمائی فرما دیں اور میری پریشانی دور فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ وضو کر لینے کے بعد جب تک پیشاب نکلنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو صرف اندیشہ سے وضو نہیں ٹوٹتا، بلکہ بر قرار رہتا ہے، لہذا سائل کو جب تک قطروں کے نکلنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو تو ا س سے سائل کا وضو نہیں ٹوٹے گا ، چنانچہ اس وضو سے جتنی ادا اور قضاء نمازیں پڑھی گئی ہیں ، وہ سب درست ادا ہوچکی ہیں، اس لئے بلا وجہ پریشان ہونے اور وسوسوں میں مبتلا ہونے سے اجتناب کیا جائے، جہاں تک عضو تناسل کو باندھ کر ٹشو رکھنے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ سے اگر پیشاب کے قطرے سوراخ سے باہر نہ نکلیں بلکہ اندر ہی ر ہیں ، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ، البتہ اگر سائل کو یقین ہو جائے کہ قطرے سوراخ سے باہر آچکے ہیں تو اب سائل کا وضو ٹوٹ جائیگا اور اس کے بعد نیا وضو کیے بغیر جو نماز پڑھی جائیگی تو وہ درست ادا نہ ہوگی، لہذا سائل مذکور بالا حکم کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی گزشتہ نمازوں کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی شرح المجلۃ : اليقين لا يزول بالشك ، اليقين عند الفقهاء هو جزم القلب بوقوع الشي ء أو عدم وقوعه (الى قوله) يعني أن الأمر المتيقن ثبوته لا يرتفع الا بدليل قاطع ولا يحكم بزواله بمجرد الشك (الى قوله)اذا وقع الشك في وجود شرطه لايثبت ، لأن ما ليس ثابتا ً بيقين لا يثبت بالشك كما أن الثابت بيقين لا يزول بالشك ، فا لمتيقن بالطهارة مثلاً اذا شك بالحدث فهو متطهر.(المادة: ٤، ج: ١، ص: ١٨، مط: حقانية)
وفی الدر المختار: (كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) هذا لو القطنة عالية أو محاذية لرأس الإحليل وإن متسفلة عنه لا ينقض وكذا الحكم في الدبر والفرج الداخل (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت؛ فإن رطبه انتقض، وإلا لا،
وفی رد المحتار تحت قوله: إحليله) بكسر الهمزة مجرى البول من الذكر بحر (قوله: هذا) أي النقض بما ذكر، ومراده بيان المراد من الطرف الظاهر بأنه ما كان عاليا عن رأس الإحليل أو مساويا له: أي ما كان خارجا من رأسه زائدا عليه أو محاذيا لرأسه لتحقق خروج النجس بابتلاله؛ بخلاف ما إذا ابتل الطرف وكان متسفلا عن رأس الإحليل أي غائبا فيه لم يحاذه ولم يعل فوقه، فإن ابتلاله غير ناقض إذا لم يوجد خروج فهو كابتلال الطرف الآخر. «الذي في داخل القصبة (قوله: والفرج الداخل) أما لو احتشت في الفرج الخارج فابتل داخل الحشو انتقض، سواء نفذ البلل إلى خارج الحشو أو لا للتيقن بالخروج من الفرج الداخل وهو المعتبر في الانتقاض لأن الفرج الخارج بمنزلة القلفة، فكما ينتقض بما يخرج من قصبة الذكر إليها وإن لم يخرج منها كذلك بما يخرج من الفرج الداخل إلى الفرج الخارج وإن لم يخرج من الخارج اهـ شرح المنية (قوله: لا ينقض) لعدم الخروج (قوله: ولو سقطت إلخ) أي لو خرجت القطنة من الإحليل رطبة انتقض لخروج النجاسة وإن قلت، وإن لم تكن رطبة أي ليس بها أثر للنجاسة أصلا فلا نقض، (کتاب الطہارۃ، سنن الوضوء، ج: ١، ص: ١٤٨.٤٩، مط: سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92254کی تصدیق کریں
0     47
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات