میں کینڈا میں رہتا ہوں، کچھ سعودی کے علماء نے فتوی دیا کہ سود پر رقم ادھار لے سکتے ہیں، گھر خریدنے کے لیے، ایک عالم جس کے پاس جامعہ بنوریہ کی سند ہے وہ بھی متفق ہے اس فتوی پر، کیا سود کی قم کا قرضہ لینا کیسا ہے؟ اگر درست ہے تو اس کی کیا شرائط ہیں؟ کیونکہ مجھے علم ہے کہ سود حرام ہے۔
سودی معاملہ کرنا بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے خواہ تعمیر مکان کے سلسلہ میں ہو یا کسی دوسرے مقصد کی خاطر، لہذا سود پر قرض لیکر مکان تعمیر کرانے سے احتراز لازم اور واجب ہے۔
کما فی الدرالمختار: كل قرض جر نفعا حرام الخ (5/166)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0