احکام نماز

گزشتہ سالوں کی نماز وں کے فدیہ کی ادائیگی میں کونسی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

فتوی نمبر :
92402
| تاریخ :
2026-02-19
عبادات / نماز / احکام نماز

گزشتہ سالوں کی نماز وں کے فدیہ کی ادائیگی میں کونسی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

مرحوم کی نمازوں کے فدیے کا حساب پہلے سالوں کی قیمت سے لگایا جائے گا ،یا جس سال فدیہ دیں اس سال کی قیمت کے اعتبار سے ادا کیا جائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر مرحوم کے ذمہ قضا ءنمازیں باقی ہوں اور اس نے قضاء نمازوں کے فدیہ ادا کرنے کی وصیت بھی کی ہو تو ایسی صورت میں اس کے ایک تہائی ترکہ کے بقدر اس کی وصیت پوری کرنا ورثاء پر لازم ہے اور اگر اس نے وصیت نہ کی ہو تو ورثاء پر اگرچہ اس کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہے ، لیکن اگر ورثاء اپنی مرضی سے اس کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔
جبکہ فدیہ جس وقت ادا کیا جائے اس وقت کی قیمت کا اعتبار کرکے فدیہ ادا کیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : ( ولو مات وعلیہ صلوات فائتۃ واوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر ) کالفطرۃ ( وکذا حکم الوتر ) والصوم، وانما یعطی ( من ثلث مالہ ) اھ
وفی رد المحتار : تحت قولہ ( یعطی ) بالبناء للمجھول : ای یعطی عنہ ولیہ : ای من مالہ ولایۃ التصرف فی مالہ بوصیۃ او وراثۃ فیلزمہ ذلک من الثلث ان اؤصی ، والا فلا یلزم الولی ذلک لانھا عبادۃ فلا بد فیھا من الاحتیار ، فاذا لم یوص فات الشرط فیسقط فی حق احکام الدنیا للتعذر ، بخلاف حق العباد فان الواجب فیہ وصولہ الی مستحقہ لا غیر ، ولھذا لو ظفر بہ الغریم یاخذہ بلا قضاء ولا رضا ، ویبرا من علیہ الحق بذلک امداد ،
ثم اعلم انہ اذا اوصی بفدیۃ الصوم یحکم بالجواز قطعا لانہ منصوص علیہ ، واما اذا لم یوص فتطوع بھا الوارث فقد قال محمد فی الزیادات انہ یجزیہ ان شاء اللہ تعالی ، فعلق الاجزاء بالمشیئۃ لعدم النص ، وکذا علقہ بالمشیئۃ فیما اذا اوصی بفدیۃ الصلاۃ لانھم الحقوھا بالصوم احتیاطا لاحتمال کون النص فیہ معلولا بالعجز فتشتمل العلۃ الصلاۃ وان لم یکن معلولا تکون الفدیۃ برا مبتدا یصلح ماحیا للسیئات فکان فیھا شبھۃ کما اذا لم یوص بفدیۃ الصوم فلذا جزم محمد بالاول و لم یجزم بالاخریین ، فعلم انہ اذا لم یوص بفدیۃ الصلاۃ فالشبھۃ اقوی ، اھ ( باب قضاء الفوائت ، ج : 2 ، ص : 72 ، ط : سعید )
وفی بدائع الصنائع: وإنما له ‌ولاية ‌النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا اھ( فصل فی صفۃ الواجب فی اموال التجارۃ، ج: 2، ص:22، ط: دارلکتب العلمیہ)
وفی رد المحتار تحت ( قولہ و ھو الاصح ) یعتبر یوم الاداء بالاجماع و ھو الاصح فھو تصحیح للقول الثانی الموافق لقولھما، وعلیہ فاعتبار یوم الاداء یکون متفقا علیہ عندہ و عندھما اھ( باب زکاۃ الغنائم، ج: 2، ص:286، ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92402کی تصدیق کریں
0     114
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات