موضوع: وتر کی نماز کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
امید ہے کہ آپ خیر و عافیت سے ہوں گے اور ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے۔
الحمدللہ، میں اس وقت میلان (اٹلی) میں مقیم ہوں اور خوش قسمتی سے میرا گھر ایک بہت ہی خوبصورت مسجد کے قریب ہے۔ یہاں کی کمیونٹی بہت متنوع ہے، جس میں بنگلہ دیش، پاکستان، انڈیا، مصر، مراکش اور افریقہ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان شامل ہیں۔
تراویح کے دوران میں نے مشاہدہ کیا کہ یہاں امام صاحب نمازِ وتر ایک ایسے طریقے سے پڑھاتے ہیں جو میرے لیے نیا ہے:
۱۔ وہ دوسری رکعت کے بعد تشہد (قعدہ) کے لیے نہیں بیٹھتے، بلکہ تینوں رکعتیں مسلسل (ایک ساتھ) ادا کرتے ہیں۔
۲۔ رکوع سے پہلے دعاِ قنوت پڑھنے کے بجائے، وہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھاتے ہیں اور مختلف قرآنی دعائیں پڑھتے ہیں۔
چونکہ میں ایک مختلف طریقے پر عمل کرتے ہوئے بڑا ہوا ہوں، اس لیے آپ کی رہنمائی کا طالب ہوں کہ کیا یہ طریقہ سنتِ نبوی ﷺ یا کسی خاص مکتبِ فکر (مذہب) کے مطابق درست ہے؟ میں یہ اس لیے پوچھنا چاہتا ہوں تاکہ میں صحیح علم کے ساتھ نماز ادا کر سکوں اور جماعت کے اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے اطمینان سے عبادت کر سکوں۔
آپ کے وقت اور رہنمائی کے لیے جزاک اللہ خیرا۔
والسلام،
سوال میں ادائیگی وتر کا ذکر کردہ طریقہ امام شافعی رحمہ اللہ کے مذھب کے مطابق ہےاور جو لوگ امام شافعی ؒ کے مقلد ہیں وہ اس طریقہ کے مطابق وتر ادا کرتے ہیں، البتہ احناف کے نزدیک وتر کی تینوں رکعتیں دو قعدوں، ایک سلام اور ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ کوئی اورسورۃ ملا کر پڑھنا اور تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھا کر تکبیر کہہ کر دعاء قنوت کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے،لہذااگر سائل حنفی المسلک ہو تو اولاً تو بہتر یہ ہے کہ سائل کسی ایسی مسجد میں نماز ادا کرنے کا اہتمام کرے جہاں امام حنفی مسلک کے مطابق نماز پڑھا تا ہو،تاہم اگر ایسا کوئی امام میسر نہ ہو یا احناف کی مسجد دور ہو تو سائل اپنے گھر سے قریب سوال میں مذکور مسجد میں بھی شافعی المسلک امام کی اقتداء میں ان کے طریقے کے مطابق وتر ادا کرسکتا ہے، تاہم شافعی المسلک امام کی اقتداء میں نماز کی صحت ودرستگی کیلئے اس بات کا اطمینان ضروری ہے کہ مذکور شافعی المسلک امام حنفی مذہب میں صحت نماز کے لئے مطلوبہ شرائط(جیسے خون نکلنے سے وضوء کا ٹوٹ جانا وغیرہ) کی رعایت رکھتا ہو ورنہ اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنا شرعاً جائز نہ ہوگی ۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: (فمن أحب أن يوتر بخمس فليفعل) بأن يصلي ركعتين ثم يصلي ثلاثا، وهو مذهب أبي حنيفة، ولا يخالفه أحد، ويحتمل أن لا يجلس إلا في آخرهن وهو قول للشافعي. (ومن أحب أن يوتر بثلاث) أي: بتسليمة كما عليه أئمتنا ولا خلاف في جوازه عند الكل الخ(باب الوتر،ج:3،ص:336،مط:مکتبہ حقانیہ)
وفی الدر المختار: وهو ثلاث ركعات بتسليمة) كالمغرب؛ حتى لو نسي القعود لا يعود ولو عاد ينبغي الفساد كما سيجيء (و) لكنه (يقرأ في كل ركعة م،نه فاتحة الكتاب وسورة) احتياطا(الی قولہ) (ويكبر قبل ركوع ثالثته رافعا يديه) كما مر ثم يعتمد،(الی قولہ) (وصح الاقتداء فيه) ففي غيره أولى إن لم يتحقق منه ما يفسدها في الأصح كما بسطه في البحر(بشافعي) مثلا (لم يفصله بسلام) لا إن فصله (على الأصح) فيهما للاتحاد وإن اختلف الاعتقادالخ(باب الوتر،ج:2،ص:6/7/8،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: ولو صلى الوتر بمن يقنت في الوتر بعد الركوع في القومة والمقتدي لا يرى ذلك تابعه فيه. هكذا في فتاوى قاضي خان اھ(الباب الثامن في صلاة الوتر،ج:1،ص؛111،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفی بدائع الصنائع: فالقراءة فيه فرض في الركعات كلها أما عندهم فلا يشكل؛ لأنه نفل، وعند أبي حنيفة وإن كان واجبا لكن الواجب ما يحتمل أنه فرض ويحتمل أنه نفل لكن يرجح جهة الفرضية فيه بدليل فيه شبهة فيجعل واجبا مع احتمال النفلية فإن كان فرضا يكتفى بالقراءة في ركعتين منه كما في المغرب، وإن كان نفلا يشترط في الركعات كلها كما في النوافل فكان الاحتياط في وجوبها في الكل الخ(فصل صفة القراءة في صلاة الوتر،ج،1ص:272،مط:ایچ ایم سعید)