کہا جاتا ہے کہ نماز پڑھتے وقت اگر ثواب کی نیت نہیں کی ، تو ثواب نہیں ملت ا، کیا یہ بات صحیح ہے؟
کسی عمل کی ادائیگی پر اگر صراحۃً حصولِ ثواب کی نیت نہ کی جائے ، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لۓ نیت کی گئی تو اس میں بھی خلوصِ نیت کی بناء پر ثواب ضرور ملےگا ، الا یہ کہ کوئی شخص ریا و نمود اور شہرت کے لۓ عمل کرے تو ایسی صورت میں وہ بجائے ثواب کے عقاب کا مستحق ہے ، جبکہ کسی مسلمان سے یہ بعید ہے کہ وہ عمل کرے، مگر اس پر ثواب ملنے سے انکار کرے۔
فی الدر المختار : (و) الخامس (النية) بالإجماع (و هي الإرادة) المرجحة لأحد المتساويين أي إرادة الصلاة لله تعالى على الخلوص اھ (1/ 414)۔
و فی حاشية ابن عابدين : و المراد بقوله على الخلوص الإخلاص لله تعالى على معنى أنه لا يشرك معه غيره في العبادة اهـ أقول : هذا يوهم أنها لا تصح مع الرياء مع أن الإخلاص شرط للثواب لا للصحة اھ (1/ 414)۔