احکام نماز

بیوی کے نماز نہ پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
92790
| تاریخ :
2026-03-01
عبادات / نماز / احکام نماز

بیوی کے نماز نہ پڑھنے کا حکم

السلام علیکم!
میری شادی کو تقریباً دو سال ہو گئے ہیں۔ میری بہت تاکید کے باوجود بھی میری اہلیہ نماز کی پابندی نہیں کرتیں۔ ایک دن پڑھتی ہیں تو پھر چار دن کسی نہ کسی بہانے سے چھوڑ دیتی ہیں، کبھی دفتر کا بہانہ، کبھی سردی اور کبھی تھکن۔ اس وجہ سے میں نے ان کی نوکری بھی چھڑوا دی تھی۔ شروع میں حالات بہتر ہوئے مگر پھر وہی صورت حال ہو گئی۔ اب وہ حاملہ بھی ہیں اور اس حوالے سے میرے چند سوال ہیں:
1) کیا حمل کے دوران عورت کے لیے نماز کے حوالے سے کوئی نرمی ہے؟
2) بعض اوقات مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری تاکید کا الٹا اثر ہوتا ہے اور وہ مجھ سے ضد میں نماز چھوڑ دیتی ہیں، تو کیا مصلحتاً میں کچھ عرصہ تاکید کرنا چھوڑ دوں؟
3) الحمدللہ باقی معاملات بہتر ہیں اور محبت سے زندگی گزر رہی ہے، لیکن نماز کے معاملے کی وجہ سے تلخی بھی ہو جاتی ہے اور دوری بھی بڑھ رہی ہے، لیکن دراصل مجھے بہت ڈر ہے کہ گھر میں بے نمازی ہونے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے کوئی مصیبت نا آجائے۔ چونکہ اہلیہ بات نہیں مان رہیں، تو میں اس صورت میں خود کو کس طرح محفوظ کر سکتا ہوں؟ جزاک اللہ الخیر۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو كہ حمل کی وجہ سے نماز کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی اور نہ ہى اس كى وجہ سے كوئى نرمى ىا تخفيف آتى ہے، بلكہ دورانِ حمل بھی عام حالات كى طرح نماز كى فرضىت باقى رہتی ہے،البتہ اگر حمل کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہو یا حمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اور اىسى حالت میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنے كى گنجائش ہے، اور اگر رکوع وسجدے پر بھی قادر نہ ہو تو اس کے لیے اشارے سے بھى نماز پڑھنا درست ہوگا۔
جبكہ بیوی كى نماز میں كوتاہى اور سستی کرنے كا جو معاملہ ہے، اس كے لىے سائل كو چاہىے كہ وه درج ذىل أمور كى پابندى كرے، تو امىد ہے بىوى كى ىہ كوتاہى جاتى رہے گى: (1) اپنے اعمال درست کرنے کی فکر کریں، اپنا ظاہر و باطن شریعت کے مطابق بنانے کی کوشش کریں ، جب انسان خود نیک ہوتا ہے تو دوسروں پر اس کی بات اثر کرتی ہے، بلکہ لوگ اس کے عمل ہی سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ (2) اپنی خواہشات نفسانیہ اور دنیوی کاموں میں بیوی پر ناراض نہ ہوں اور سختی نہ کریں ورنہ وہ سمجھے گی کہ دینی کاموں میں آپ کی ناراضگی بھی آپ کی افتاد طبع ہی ہے، دین کو تو صرف غصہ نکالنے کا بہانہ بنا رکھا ہے۔( 3) بیوی کے لیے ہدایت کی دعاء کیا کریں۔ (4) نرمی اور محبت سے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں اور بہت زىاده تاكىد اور بے حد إصرار سے بھى گرىز كرىں۔ (5) گھر میں روزانہ تعلیم کا اہتمام کرىں : روزانہ بلا ناغہ تھوڑی سی دیر کے لیے کوئی ایسی اور ہم وقعت کتاب پڑھ کر سنایا کریں جس سے دل میں اللہ تعالی کی محبت اور آخرت کی فکر پیدا ہو، جیسے حکایات صحابہ، فضائل اعمال وغیرہ، زبانی بتانےکی بجائے کتاب پڑھ کر سنایا کریں اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے، اور قدرتی طور پر انسان کی طبیعت ایسی واقع ہوئی ہے کہ اس پر اپنے ساتھیوں کی بات کا اثر بہت کم ہوتا ہے، بالخصوص میاں بیوی کا آپس کا ایسا تعلق ہے کہ یہ ایک دوسرے کی نصیحت کی طرف بہت کم التفات کرتے ہیں ، اغیار بالخصوص اکابر اور ان سے بھی بڑھ کر گزشتہ زمانہ کے بزرگوں کی باتوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ (6) اگر سختی کا تحمل ہو تو بقدر ضرورت سختی سے کام لیں، مگر خوب سوچ سمجھ کر، پہلے خوب سمجھ لیں کہ اگر سختی کرنے سے بىوی روٹھ کر چلى گئى یا گھر میں رہ کر وبال جان بن گئی، تو آپ ان حالات کا حل كىسے کر سکیں گے ؟ اگر خدانخواستہ پریشان ہو کر آپ نے بیوی کی خوشامد کی تو کیا عزت رہی ؟ اپنی عزت برباد کرنے کے علاوہ دوسرا نقصان یہ کہ آئیندہ کے لیے بیوی ہر معاملہ میں سر پر چڑھ کرنا چے گی اس لیے بلا سوچے سمجھے کوئی سخت اقدام ہر گز نہ کریں۔ ان تمام أمور كى پابندى كے بعد بھى نرمی گرمی کسی تدبیر سے بھی بیوی ہدایت پر نہیں آتی تو شوہر پر کوئی گناه نہیں، بشرطیکہ جو ہدایات بتا ئى گئی ہےان میں سے کسی میں غفلت نہ کرے، اپنا اختیار پورے طور پر استعمال کرے، اس پر صرف یہی فرض ہے، آگے ہدایت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ شوہر کے اختیار میں نہیں، اس لیے ہر ممکن کوشش کے باوجود بیوی نماز نہ پڑھے تو شوہر پر کوئی گناہ نہیں۔ (ماخوذ از رسالۃ" شرعی پردہ")

مأخَذُ الفَتوی

كما في التنزيل العزيز: ﴿إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا﴾ [النساء: 103]
وفي صحيح البخاري: عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: «كانت بي بواسير، فسألت النبي ﷺ عن الصلاة، فقال: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب. [كتاب الصلاة، باب: إذا لم يطق قاعدا صلى على جنب، رقم الحديث (1117) ج:2 ص:48 ط: المطبعة الكبرى)
وفي رد المحتار تحت قوله: (القادر عليه) فلو عجز عنه حقيقة وهو ظاهر أو حكما كما لو حصل له به ألم شديد أو خاف زيادة المرض وكالمسائل الآتية في قوله وقد يتحتم القعود إلخ فإنه يسقط، وقد يسقط مع القدرة عليه فيما لو عجز عن السجود كما اقتصر عليه الشارح تبعا للبحر اهـ (كتاب الصلاة، باب فرائض الصلاة، ج:1، ص:442، ط: سعید)
وفي نفع المفتي والسائل للكهنوي: إذا اعتادت الزوجة الفسق عليه الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، والضرب فيما يجوز فيه، فإن لم تتزجر لا يُحِبُّ التطليق عليه؛ لأن الزوج قد أدى حقه، والإثم عليها. كذا في الخزانة الروايات» عن «القنية». وصرح به في الدر المختار (6/427): أيضاً قبيل (كتاب إحياء الموات). هذا ما اقتضاه الشرع، وأما مقتضى غاية التقوى، فهو أن يُطلقها (إلى قوله) لكن جواز الطلاق إنما هو إذا قدر على أداء المهر وإلا فلا يطلقها كما في "الأشباه والنظائر" اهـ (ما يتعلق بإطاعة الزوجات للأزواج، ص:410 ط: دار ابن حزم)
وفي الدر المختار: وله ضرب زوجته على ترك الصلاة على الأظهر،لا يجب على الزوج تطليق الفاجرةاهـ
ورد المحتار تحت قوله: (لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال صلى الله عليه وسلم لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها» اهـ ط [كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6 ص:427 ط: سعيد)]
وفي بدائع الصنائع: ومنها ولاية التأديب للزوج إذا لم تطعه فيما يلزم طاعته بأن كانت ناشزة، فله أن يؤدبها لكن على الترتيب، فيعظها أولا على الرفق واللين بأن يقول لها كوني من الصالحات القانتات الحافظات للغيب ولا تكوني من كذا وكذا، فلعل تقبل الموعظة، فتترك النشوز، فإن نجعت فيها الموعظة، ورجعت إلى الفراش وإلا هجرها، وقيل يخوفها بالهجر أولا والاعتزال عنها، وترك الجماع والمضاجعة، فإن تركت وإلا هجرها لعل نفسها لا تحتمل الهجر، (إلى قوله) فإذا هجرها، فإن تركت النشوز، وإلا ضربها عند ذلك ضربا غير مبرح، ولا شائن، والأصل فيه قوله عز وجل {واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن} [النساء: 34] اهـ [كتاب النكاح، فصل ولاية التأديب للزوج إذا لم تطعه، ج:2 ص:334 ط: دار الكتب العلمية)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92790کی تصدیق کریں
1     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات