احکام نماز

نظر نہ آنے کی وجہ سے عشاء اور فجر کی نماز گھر میں پڑھنا

فتوی نمبر :
92889
| تاریخ :
2026-03-04
عبادات / نماز / احکام نماز

نظر نہ آنے کی وجہ سے عشاء اور فجر کی نماز گھر میں پڑھنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے رات میں اندھیرے میں دکھائی نہیں دیتا، یعنی جس کو نائٹ بلائنڈلیس (Night blindness) یہ بیماری ہے ، مجھے صبح نماز کے لیے اور رات کو فرض نماز کے لیے مسجد جانے میں تکلیف ہوتی ہے، کیا میں گھر پہ نماز پڑھ سکتا ہوں یا مجھے مسجد جانا ضروری ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر واقعی سائل کو "نائٹ بلائنڈنس" کی وجہ سے اندھیرے میں چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہو، راستہ واضح نظرنہ آنے کی وجہ سےغیرمعمولی مشقت ،تکلیف یاچوٹ پہنچنے کا اندیشہ ہوتو ایسی صورت میں سائل کے لیےمسجدکی باجماعت نماز ترک کرکے فجر، اور عشاء کی نماز گھر میں تنہا ادا کرنے کی گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار: تحت (قوله من غير حرج) قيد لكونها سنة مؤكدة أو واجبة، فبالحرج يرتفع الإثم ويرخص في تركها ولكنه يفوته الأفضل بدليل «أنه - عليه الصلاة والسلام - قال لابن أم مكتوم الأعمى لما استأذنه في الصلاة في بيته: ما أجد لك رخصة» قال في الفتح: أي تحصل لك فضيلة الجماعة من غير حضورها لا الإيجاب على الأعمى، «لأنه - عليه الصلاة والسلام - رخص لعتبان بن مالك في تركها» الخ (1/554 )۔
وفی الھندیۃ: (الفصل الأول في الجماعة) الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وفي المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة وفي البدائع تجب على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج، الخ (1/82)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92889کی تصدیق کریں
0     39
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات