احکام نماز

مسلکی اختلاف کی وجہ سے ایک مسجد میں دو جماعتیں کروانا

فتوی نمبر :
92963
| تاریخ :
2026-03-06
عبادات / نماز / احکام نماز

مسلکی اختلاف کی وجہ سے ایک مسجد میں دو جماعتیں کروانا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
عرض یہ ہے کہ میں ایک آفس میں ملازم ہوں۔ ہمارے آفس کی مسجد میں تمام ملازمین نماز ادا کرتے ہیں۔ اس مسجد کے امام صاحب بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ آفس میں کچھ ملازمین دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔
کچھ ساتھی مسلکی اختلاف کی وجہ سے باہر کسی دوسری مسجد میں جا کر نماز ادا کرتے ہیں۔ ہم نے یہ تجویز دی کہ چونکہ صحن بھی آفس کی اسی مسجد کا حصہ ہے، اس لیے ہم پہلی جماعت کے بعد اسی مسجد کے صحن میں دوسری جماعت کر لیا کریں۔
سوال یہ ہے کہ:
کیا آفس کی مسجد میں، جبکہ امام مقرر ہو اور باقاعدہ جماعت ہو رہی ہو، مسلکی اختلاف کی بنیاد پر دوسری جماعت قائم کرنا شرعاً جائز ہے؟
اور کیا مسجد کے صحن میں الگ جماعت کرنا بھی اسی حکم میں شامل ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکورہ آفس کی انتظامیہ کو چاہیے کہ امامت کے لیے کسی ایسے متبعِ سنت اور پابندِ شریعت امام کا تقرر کرے، جس کی دیانت و تقویٰ پر تمام مقتدی مطمئن ہوں، تاکہ تمام نمازیں ایک ہی امام کی اقتدا میں ادا ہوں اور دوسری جماعت کی نوبت نہ آئے۔ تاہم اگر اس کا اہتمام نہ ہو سکے اور بہرصورت دوسری جماعت کرانی پڑے تو چونکہ یہ جگہ شرعی مسجد نہیں بلکہ دفتر کا مصلیٰ ہے، اس لیے وہاں یا اس کے صحن میں دوسری جماعت کرا نے بھی شرعاً گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار مع رد المحتار: ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن۔
(قوله: ويكره) أي تحريماً؛ لقول الكافي: لا يجوز، والمجمع: لا يباح، وشرح الجامع الصغير: إنه بدعة، كما في رسالة السندي، (قوله: بأذان وإقامة إلخ) عبارته في الخزائن: أجمع مما هنا ونصها: يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، لو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا؛ كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجاً فوجاً، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة، كما في أمالي قاضي خان اه ونحوه في الدرر، والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون، كما في الدرر وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعاً. اه. ثم قال في الاستدلال على الإمام الشافعي النافي للكراهة ما نصه: ولنا «أنه عليه الصلاة والسلام كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد وقد صلى أهل المسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله وصلى»، ولو جاز ذلك لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد ولأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنهم لا تفوتهم.
وأما مسجد الشارع فالناس فيه سواء لا اختصاص له بفريق دون فريق اه ومثله في البدائع وغيرها، ومقتضى هذا الاستدلال كراهة التكرار في مسجد المحلة ولو بدون أذان؛ ويؤيده ما في الظهيرية: لو دخل جماعة المسجد بعد ما صلى فيه أهله يصلون وحداناً، وهو ظاهر الرواية اه وهذا مخالف لحكاية الإجماع المارة ··· وقدمنا في باب الأذان عن آخر شرح المنية عن أبي يوسف أنه إذا لم تكن الجماعة على الهيئة الأولى لا تكره وإلا تكره، وهو الصحيح، وبالعدول عن المحراب تختلف الهيئة، كذا في البزازية انتهى. وفي التتارخانية عن الولوالجية: وبه نأخذ. (552/1)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92963کی تصدیق کریں
0     59
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات