احکام نماز

قطرہ نکلنے کا شک ہونےسے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
92965
| تاریخ :
2026-03-06
عبادات / نماز / احکام نماز

قطرہ نکلنے کا شک ہونےسے نماز کا حکم

میں نماز سے پہلے خوب وضو کرنے کا اہتمام کرتا ہوں جب خوب اہتمام کرکے مطمئن ہوجاتا ہوتو مجھے امامت کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہی ہوا خارج نہ ہو یا کہی قطرہ نہ نکلیں لیکن بعض اوقات جب میں مصلے پر کھڑا ہوتا ہو ں تو اچانک قطرہ نکلنے کا احساس ہوجاتا ہے تو کیا اس سے میری نماز اور مقتدیوں کی نماز درست ہوگی؟اس کا مجھے یقین نہیں ہوتا ہے کہ نکلا یا نہیں مگر اس حالت میں میں نماز پوری کرتا ہوں نماز کے بعد مجھے پریشانی رہتی ہے کہ لوگوں کی نماز ہوئی ہوگی یا نہیں ،پھر میں ڈیپرس رہتا ہو کہ کاش میں امامت نہ کرتا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل سے معلوم ہوتاہے کہ سائل پر پاکی ناپاکی کے مسائل میں وساوس کا غلبہ ہے، اگر واقعتا ایساہی ہو تو سائل کو جب تک پیشاب کے قطرے آنے کا یقین نہ ہو، تب تک محض شکوک وشبہات کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا ، سائل کو چاہئے کہ شک کی طرف دھیان نہ دیں اور سکون سے اپنی نماز پڑھائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار:فإن ‌الشك والاحتمال لا يوجب الحكم بالنقض، إذ اليقين لا يزول بالشك الخ (کتاب الطھارۃ، سنن الوضوء، ج:1، ص148، مط: ایچ ایم سعید)
وفی الأشباه والنظائرلابن نجیم : اليقين لا يزول بالشك اھ(النوع الثاني من القواعد،ص:79،مط: دار الكتب العلمية)
وفی البحر الرائق: فإن الشك والاحتمال في كونه ناقضا لا يوجب الحكم بالنقض إذ اليقين لا يزول بالشك الخ(باب نواقض الوضوء،ج:1،ص:34،مط: دار الكتاب الإسلامي)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92965کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات